یو اے پی اے قانون کے تحت مسلموں کو طویل مدت تک جیل میں رکھے جانے سے اویسی ناراض، خامیوں کا کیا تذکرہ

ہیمنت بسوا سرما پر ایک بیان پر سخت الفاظ میں تبصرہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ’’اس کا دماغ چھوٹا ہے، اس لیے وہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں کہتا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>اسد الدین اویسی (فائل) / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے یو اے پی اے قانون کے تحت مسلم نوجوانوں کو طویل مدت تک جیل میں رکھے جانے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا اور اس قانون کی خامیاں بھی عوام کے سامنے رکھیں۔ انھوں نے مہاراشٹر میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’یو اے پی اے قانون 2008 میں جب کانگریس حکومت میں لایا گیا تھا، اسی وقت پارلیمنٹ میں متنبہ کیا تھا کہ اس کا استعمال مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف کیا جائے گا۔‘‘ اویسی نے مزید کہا کہ ’’میں نے تو یہاں تک کہا تھا کہ اس قانون کے تحت اروندھتی رائے کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اس میں 180 دنوں تک حراست میں رکھنے کا التزام ہے۔‘‘

اویسی نے موجودہ وقت میں عمر خالد اور شرجیل امام جیسے مسلم نوجوانوں کی قید کا ذکر بھی اپنے خطاب کے دوران کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یو اے پی اے قانون کے تحت جیل میں قید اس لڑکے (عمر خالد) کو صرف 2 بار باہر نکلنے دیا گیا، جس میں ایک بار تب موقع ملا جب اس کی بہن کی شادی تھی۔‘‘ اویسی نے موجودہ حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کی ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ 80 فیصد معاملات میں پولیس مان لیتی ہے کہ اگر ملزم مسلمان ہے تو وہ دہشت گرد ہے۔


دوسری طرف اویسی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سرما کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ملک کا وزیر اعظم ہمیشہ ہندو ہی بنے گا۔ ہیمنت بسوا سرما نے گزشتہ روز کہا تھا کہ آئینی طور پر وزیر اعظم کوئی بھی بن سکتا ہے، لیکن ہندوستان ایک ہندو راشٹر ہے، ہندو تہذیب ہے، اور ہمیں پورا بھروسہ ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم ہمیشہ ہندو ہی ہوگا۔ ہیمنت بسوا سرما کے اس بیان پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ’’ان کے دماغ میں ’ٹیوب لائٹ‘ جلتی ہے۔ اس نے آئین کی قسم کھائی ہے، آئین میں یہ کہاں لکھا ہے؟‘‘

اویسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ صرف ایک طبقہ کا شخص ہی اس ملک کا وزیر اعظم اور صدر بن سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں بابا صاحب امبیڈکر نے آئین دیا۔ وہ ہیمنت بسوا سرما سے زیادہ دانشور اور تعلیم یافتہ تھے۔ اویسی نے کہا کہ ’’بدقسمتی سے کچھ لوگ آئین اور اس کے جذبات کو نہیں سمجھتے، وہ نہیں سمجھتے کہ یہ ملک صرف ایک طبقہ کا نہیں ہے۔‘‘ ہیمنت بسوا سرما پر سخت الفاظ میں تبصرہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ’’اس کا دماغ چھوٹا ہے، اس لیے وہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں کہتا ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔