دہلی کے نجی اسکولوں کو 15 فیصد فیس کم کرنے کا حکم ایک دھوکہ

کورونا کے دوران جب تمام والدین کو مالی بحران کا سامنا ہے تو فیسوں میں 15 فیصد کمی ان کے لئے بڑی راحت ہوگی یہ صرف دکھاوا ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کورونا کے دوران مالی بحران کا سامنا کرنے والے والدین کو راحت دیتے ہوئے دہلی حکومت نے تمام نجی اسکولوں کو تعلیمی سال 2020-21 میں 15 فیصد فیس کی تخفیف کا حکم دیا ہے۔

دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا کہ کورونا کے دوران جب تمام والدین کو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، تو فیسوں میں 15 فیصد کمی ان کے لئے بڑی راحت ہوگی۔ والدین کی مالی پریشانیوں کی وجہ سے اسکول انتظامیہ طلباء کو اسکول کی کسی بھی سرگرمی میں حصہ لینے سے نہیں روک پائے گی۔


انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر مالی سال 2020-21 میں اسکول کی ماہانہ فیس 3000 روپے ہے تو ، اس اسکول میں 15 فیصد کی کمی کے بعد والدین سے صرف 2550 روپے وصول کیے جاسکیں گے۔ اسکولوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر انہوں نے والدین سے اس سے زیادہ فیس لی ہے تو اسکولوں کو وہ فیس واپس کرنی ہوگی یا مزید فیسوں میں ایڈجسٹ کرنا پڑے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ کمی حکومت کی جانب سے کوئی احسان نہیں ہے کیونکہ اس دوران اسکولوں میں بجلی اور پانی جیسے اخراجات اسکول پرنہیں پڑے ہیں اس لئے یہ صرف وہ رقم کم کی جا رہی ہے جس کا اسکولوں پر کوئی بوجھ ہی نہیں ہے ۔ حکومت اس کو اس طرح پیش کر رہی ہےکہ جیسے وہ عوام کو بڑی راحت دےرہی ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو اسکولوں کو مالی فائدہ ہی ہوتا۔یہ راحت اس وقت ہوتی جب اسکول بند نہیں ہوتے اور اسکولوں پر بجلی و پانی کے اخراجات پڑتے۔


ویسےبھی دہلی حکومت کا یہ فیصلہ عدالت کےحکم کے بعد لیا گیا ہے۔واضح رہے ہائی کورٹ نے نجی اسکولوں کی فیسوں میں 15 فیصد کمی کا حکم دیا ہے تاکہ کورونا کے وقت میں منافع کمانے اور کاروباری ہونے سے بچایا جاسکے۔ دہلی حکومت کا یہ حکم ان 460 نجی اسکولوں کے لئے ہے جنہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔ اب ان 460 اسکولوں کے علاوہ دہلی کے دوسرے تمام اسکول دہلی حکومت کی 18 اپریل 2020 اور 28 اپریل 2020 کو جاری کردہ فیس سے متعلق ہدایات پر عمل کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔