قومی

الیکشن کمیشن ای وی ایمس کے نقائص کو دور کرنے میں ناکام: اپوزیشن

چندرابابو نے کہا کہ 191 ممالک میں سے صر ف 18 ممالک میں ہی ای وی ایمس کے ذریعہ انتخابات کروائے جاتے ہیں جبکہ دیگر تمام ممالک میں ہنوز پیپر بیلٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

ممبئی: ای وی ایمس پر ایک مرتبہ پھر اپنے شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن کے لیڈروں نے اس میں کئی طرح کی خامیوں کا دعوی کیا۔ اے پی کے وزیراعلی و تلگودیشم کے قومی صدر این چندرابابو نائیڈو نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن ای وی ایمس کے نقائص کو دور کرنے میں ناکام رہا۔ چندرابابو نائیڈو جو کانگریس اور این سی پی کے اتحاد کے لئے انتخابی تشہیر کے لئے ممبئی پہنچے، نے عروس البلاد شہر میں ای وی ایمس پر منعقدہ کل جماعتی اجلاس کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کئی ممالک میں ہنوز بیلٹ پیپر کے ذریعہ انتخابات کے طریقہ کار پرعمل کیا جا رہا ہے۔ ای وی ایمس میں الٹ پھیر کے ممکن ہونے کا دعوی کرتے ہوئے نائیڈو نے اس پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 50 فیصد وی وی پیٹس کی گنتی کے لئے 23 جماعتیں سپریم کورٹ سے رجوع ہوئیں۔ انہوں نے وی وی پیٹس کی گنتی کے لئے 6 دن درکار ہونے انتخابی پینل کی عدالت عظمی میں پیش کردہ دلیل کا مضحکہ اڑایا۔

انہوں نے کہا کہ حق رائے دہی سے استفادہ کرنے والے کو صرف تین ہی سکنڈس میں وی وی پیٹس میں اس جماعت کا نشان نظر آرہا ہے جبکہ درحقیقت اس کو یہ نشان سات سکنڈس تک نظر آنا چاہیے۔ اس طرح وی وی پیٹس پر کئی طرح کے شبہات اور سوالات اٹھ رہے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ وی وی پیٹس کے لئے کمیشن نے 9 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے کیا کیا؟ ای وی ایمس اور وی وی پیٹس کا موازنہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے ای وی ایمس کی خرابی کو دور کرنے کے لئے مناسب اسٹاف کی کمی پر بھی تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ اے پی میں انتخابات کے موقع پر چیف الکٹورل آفیسر کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ چندرابابو نے کہا کہ جمہوریت کو بچانے کی ضرورت ہے۔

مودی کے دور میں آزادانہ طور پر کام کرنے والی جانچ ایجنسیوں کے کام میں مداخلت کی جارہی ہے۔ اگر کوئی بھی سیاسی لیڈر مرکزی حکومت کے خلاف بات کرتا ہے تو آئی ٹی، سی بی آئی اور ای ڈی کے ذریعہ چھاپے کروائے جاتے ہیں۔

چندرابابو نے کہا کہ 191 ممالک میں سے صر ف 18 ممالک میں ہی ای وی ایمس کے ذریعہ انتخابات کروائے جاتے ہیں جبکہ دیگر تمام ممالک میں ہنوز پیپر بیلٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر سابق مرکزی وزیر و این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے کہا کہ ای وی ایمس میں الٹ پھیرتشویش کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام زیر قیادت مودی حکومت کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تاہم ای وی ایمس ہی ایک تشویش کن عنصر ہے۔ بی جے پی الٹ پھیر کے ذریعہ ووٹ حاصل کرسکتی ہے۔ عاپ لیڈر سنجے سنگھ نے کہا کہ انتخابی کمیشن، دھرت راشٹرا کی طرح کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ کوئی سا بٹن دبائیں ووٹ بی جے پی کو جا رہا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر سشیل کمار شنڈے نے کہا کہ 50 فیصد وی وی پیٹس کی گنتی منصفانہ مطالبہ ہے۔ اس اجلاس میں کانگریس، این سی پی، تلگودیشم، ترنمول کانگریس، عاپ، سی پی آئی، سی پی ایم اور ڈی ایم کے کے لیڈروں نے شرکت کی۔