ہندی کو پورے ملک کی زبان بنانے کے شاہ کے بیان پر اپوزیشن کا سخت ردعمل

امت شاہ کے یوم ہندی کے موقع پر ہندی کو پورے ملک کی زبان بنانے کے بیان پر حزب اختلاف نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کی سالمیت کو متاثر کرنے والا بیان قرار دیا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

یو این آئی

چنئی: بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر اور وزیر داخلہ امت شاہ کے یوم ہندی کے موقع پر ہندی کو پورے ملک کی زبان بنانے کے بیان پر حزب اختلاف نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کی سالمیت کو متاثر کرنے والا بیان قرار دیا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

پڈوچیری کے وزیر اعلی نارائن سامی ، ڈی ایم کے کے ایم کے اسٹالن اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے شدید رد عمل کا اظہار کیا جب کہ ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی نے یوم ہندی کے موقع پر نیک خواہشات پیش لیکن کہا کہ تمام زبانوں اور ثقافتوں کا یکساں طور پر احترام کیا جانا چاہئے۔

شاہ کے بیان پر سخت اعتراضات کرتے ہوئے دڑاوڑ منیتر کژگم (ڈی ایم کے) پارٹی کے صدر ایم کے اسٹالن نے سوال کیا کہ یہ ’انڈیا‘ ہے یا ’ہندیا‘۔ اسٹالن نے کہا کہ ملک کی طاقت کثرت میں وحدت میں ہے اور یہ ہندوستانی ثقافت کی شناخت ہے۔ انہوں نے کہا ، ’’جب سے بی جے پی کی زیرقیادت حکومت اقتدار میں آئی ہے کئی وجوہات کی بناء پر وہ ملک کی اس شناخت کو ختم کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ ’’انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے تمل زبان کو بچانے کے لئے ہندی زبان کے تسلط کی ہمیشہ مخالفت کرتی آئی ہے۔

اس کے علاوہ ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے ٹوئیٹ کرکے کہا ، ’’ہندی ہر ہندوستانی کی مادری زبان نہیں ہے۔ کیا آپ مختلف مادری زبانوں کی تنوع اور خوبصورتی کی تعریف کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں؟ آئین کی دفعہ 29 ہر ہندوستانی کو ایک الگ زبان بولنے اور ثقافت کا حق دیتی ہے۔ ’’انہوں نے کہا ،’’ ہندوستان ہندی ، ہندو اور ہندو توا سے بہت بڑا ہے۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بھی کہا ، ’’یوم ہندی مبارک ہو۔ ہمیں تمام زبانوں اور ثقافتوں کا احترام کرنا چاہئے۔ ہمیں دوسری زبانیں بھی سیکھنا چاہئے لیکن مادری زبان کو نہیں بھولنا چاہئے۔

آل انڈیا انا دڑاوڑ مننیترکژگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے ترجمان نے بھی ہندی زبان کو ملک کی زبان بنانے کے بیان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ شاہ کا یہ بیان ملک کے اتحاد کوتوڑ جاسکتا ہے۔ ترجمان نے کہا ، ’’وزیر اعظم نریندر مودی نے متعدد بار تمل زبان کے تئیں اپنی محبت کا اظہار کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ اپنے الفاظ پر قائم ہیں۔‘‘

اس کے علاوہ ، پڈوچیری کے وزیر اعلی وی نارائن سامی نے شاہ کے اس بیان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ، ’’ہندی کو ملک کی زبان بنا نے سے ملک کو ایک ساتھ نہیں رکھا جاسکتا۔ ہندوستانی حکمرانی کے بنیادی اصول کے مطابق ، تمام زبانوں ، مذاہب اور ثقافتوں کا احترام کیا جانا چاہئے۔

واضح رہے کہ شاہ نے ٹوئیٹ کیا کہ’’ ہندوستان مختلف زبانوں کا ملک ہے اور ہر زبان کی اپنی اہمیت ہے مگر پورے ملک کی ایک زبان ہونانہایت ضرورت ہے ، جو دنیا میں ہندوستان شناخت بنے۔ آج ملک کو ایک ڈور میں باندھنے کا کام اگر کوئی کوئی زبان کرسکتی ہے تو وہ سب سے زیادہ بولی جانے والی ہندی زبان ہے۔ ‘‘

شاہ نے کہا کہ ’’آج یوم ہندی کے موقع پر میں ملک کے تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں ، ہم اپنی مادری زبان کے استعمال کو بڑھائیں اور ساتھ ہی ہندوستانی زبان کا استعمال کرکے ملک کی ایک زبان کے مہاتما گاندھی اور سردار پٹیل کے خواب کو پورا کریں ۔