مسلمانوں کو حزب اختلاف نے ورغلایا، بیداری لائے حکومت: کلب جواد

کلب جواد نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اپنے مفادات کے لئے مسلمانوں کو ورغلایا رہی ہیں، حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس حوالہ سے شکوک و شبہات کو دور کرے اور ان میں بیداری لائے

تصویر اے آئی این ایس
تصویر اے آئی این ایس
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: شیعہ عالم مولانا کلب جواد نقوی نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے حوالہ سے کہا ہے کہ اس کو لے کر مسلمانوں میں الجھن اور خوف پایا جاتا ہے۔ نیز، حزب اختلاف کی جماعتیں اپنے مفادات کے لئے مسلمانوں کو ورغلا رہی ہیں۔ لہذا، حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس حوالہ سے شکوک و شبہات کو دور کرے اور مسلمانوں میں بیداری لائے۔

کلب جواد نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران کہا، ’’تمام حزب اختلاف کی جماعتیں سی اے اے مخالف مظاہروں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ وہ مسلمانوں کو اکسا رہی ہیں کہ انہیں ملک سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ ایسی صورت حال پیدا کر دی گئی ہے کہ مسلمان سمجھ نہیں پا رہا کہ وہ کیا کرے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’مظاہرے سے سیاسی جماعتیں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ یہ لوگ آتے ہیں اور ہجوم میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے تشدد کو بھڑکایا۔ حزب اختلاف کی جماعتیں مسلم جذبات سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ حکومت کو اس قانون کے بارے میں مسلم طبقہ کی الجھن کو دور کرنا چاہئے۔‘‘

جواد نے مزید کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا سی اے اے کے خلاف مظاہروں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، وہ اس معاملے پر پوری طرح خاموش ہے۔ تاہم، انہوں نے یوگی حکومت کے وزیر محسن رضا کے بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ اویسی ایک سیاسی شخصیت ہیں اور اسی کے مطابق کام کر رہے ہیں، تاکہ مسلمان ان کے ساتھ رہیں۔ وہ مذہبی یا مولانا تو ہیں نہیں، بلکہ سیاسی ہیں۔ مولانا نے کہا کہ ملک سے باہر سے آنے والی اقلیتوں میں جین، بدھ اور پارسی لوگوں کو شہریت مل جائے گی اور مسلمان اس سے خوفزدہ ہو گیا۔ ان کا خیال ہے کہ انہیں نکال دیا جائے گا۔ ان کے پاس دستاویزات نہیں ہیں تو حکومت انہیں کیمپوں میں بھیج دے گی۔ جس کے پاس سرٹیفکیٹ نہیں ہے ان کے ساتھ حکومت کیا کرے گی، حکومت کو مسلمانوں کو سمجھانا چاہئے کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے۔

شیعہ عالم دین نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے این پی آر فارم پُر نہ کرنے کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں۔ یہ تمام بیانات پریشانی کا باعث ہیں۔ حکومت کو ان تمام چیزوں کے بارے میں مسلمانوں کو سمجھجانا چاہئے۔

جواد نے کہا کہ ایودھیا کے فیصلے کے بعد جس طرح سے امن قائم رہا، اسی طرح اس کی پہلے سے ہی تیاری کی جانی چاہئے۔ اس مظاہرے میں مسلمان زیادہ ہیں، کیونکہ انہیں زیادہ خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔

Published: 5 Jan 2020, 11:46 AM
next