جاسوسی معاملہ پر اپوزیشن جماعتوں کا اظہار یکجہتی، سمجھوتہ نہیں کرنے کا راہل گاندھی کا عزم

پارلیمنٹ میں بدھ کی صبح مانسون اجلاس کی کارروائی شروع ہونے سے قبل حزب اختلاف کی متعدد جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس منعقعد ہوا۔

حزب اختلاف کے اجلاس میں راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن لیڈران / ٹوئٹر
حزب اختلاف کے اجلاس میں راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن لیڈران / ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پیگاسس جاسوسی معاملہ کے تعلق سے حزب اختلاف مرکزی حکومت پر لگاتار حملہ آور ہے اور اس کی وجہ سے اب تک پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کی کارروائی بھی تعطل کا شکار ہے۔ پارلیمنٹ میں بدھ کی صبح مانسون اجلاس کی کارروائی شروع ہونے سے قبل حزب اختلاف کی متعدد جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس منعقعد ہوا۔

حزب اختلاف کے اجلاس کے دوران کانگریس لیڈرا راہل گاندھی بھی موجود رہے، جس میں اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کو گھیرنے کے حوالہ سے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا اور تمام جماعتوں نے یکجہتی کا اظہار کیا۔ کانگریس کے علاوہ شیوسینا، سی پی آئی، سی پی ایم، راشٹریہ جنتا دل، عام آدمی پارٹی اور تمل ناڈو کے ڈی ایم کے رہنماؤں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔


حزب اختلاف کی 14 جماعتوں کے اس اجلاس کے دوران کانگریس لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ ایوان کی کاررائی چلے اور پیگاسس معاملے پر بحث کرائی جائے۔ پیگاسس معاملہ کی تفتیش متعدد ممالک میں کی جا رہی ہے، تو پھر بی جے پی اپنے ملک میں اس کی تحقیقات کیوں نہیں کرا رہی؟ وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کو اس کی تحقیقات کرانا چاہئے۔‘‘

پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے لیڈران کی میٹنگ کے بعد کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا ’’ہم مہنگائی، پیگاسس اور کسانوں کے مسئلہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان مسائل پر ایوان میں بحث کی جائے۔‘‘ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور دیگر کئی اپوزیشن رہنماؤں نے پیگاسس جاسوسی کے معاملے پر بدھ کے روز لوک سبھا میں تحریک التوا کا نوٹس بھی پیش کیا گیا۔


راہل گاندھی نے حزب اختلاف کے 14 جماعتوں کے لیڈران کے اجلاس کی تصویر ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’پوری اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنا انتہائی عاجزانہ ہے۔ اجلاس میں حاضر ہر شخص میں حیرت انگیز تجربہ، دانشمندی اور بصیرت موجود ہے۔‘‘

حزب اختلاف کے اس اجلاس میں آئی این سی، ڈی ایم کے، این سی پی، شیو سینا، آر جے ڈی، سماجوادی پارٹی، سی پی آئی ایم، نیشنل کانفرنس، عام آدمی پارٹی، انڈین یونین مسلم لیگ، آر ایس پی، کے سی ایم اور وی سی، کل 14 جماعتوں نے شرکت کی۔

اپوزیشن لیڈران نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت صرف اور صرف جملوں کے ذریعے کام کر رہی ہے، جبکہ زمین پر کچھ بھی نظر نہیں آ رہا۔ کورونا کی دوسری لہر کے دوران ہزاروں افراد کی جان آکسیجن کی کمی کے سبب چلی گئی، حکومت کی طرف سے بیان آتا ہے کہ آکسیجن کی کمی سے کوئی موت نہیں ہوئی۔ ٹی وی پر نظر آنے والی تصویریں اور ٹوئٹر کیا سب جھوٹے ہیں؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 28 Jul 2021, 2:13 PM