بی ایچ یو میں مسلم پروفیسر کی تقرری پر مخالفت جاری، دھرنا ختم

فیروز خان کی اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے تقرری کے خلاف جاری طلبا کا دھرنا ختم ہو گیا لیکن طلبا نے امتحانات اور درجات کا بائیکاٹ کرنے کے اعلان کے ساتھ زوردار تحریک شروع کرنے کی واررننگ دی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

وارانسی: بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد یہاں کے سنسکر ودیا دھرم وگیان فیکلٹی میں فیروز خان کی اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے تقرری کے خلاف جاری طلبا کا دھرنا 15ویں دن جمعہ کو ختم ہوگیا لیکن مظاہرہ کرنے والے طلبا نے امتحانات اور درجات کا بائیکاٹ کرنے کے اعلان کے ساتھ مطالبات نہیں مانے جانے پر زوردار تحریک شروع کرنے کی واررننگ دی۔

مظاہرین کی قیادت کررہے طالب علم چکرپانی اوجھا نے نامہ نگاروں سے کہاکہ مانگوں کا ایک میمورنڈم یونیورسٹی انتظامیہ کو دیا گیا ہے اور طلبا کو دس دنوں کے اندر جواب دینے کی تحریری یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اس بنیاد پر یہ دھرنا ملتوی کیا گیا لیکن فیروز خان کو موجودہ عہدہ سے ہٹانے کی مانگ منظور ہونے تک مخالفت جاری رہے گی۔ فیکلٹی کے طلبا اپنی کلاسوں اور امتحانات کا بائیکاٹ کرکے غصہ کا اظہار کریں گے۔

اوجھا نے اپنے ذرائعہ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم کے دفتر کی طرف سے فیروز خان کی تقرری سے متعلق تنازعہ کا نوٹس لیا گیا ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ سے اس سلسلہ میں رپورٹ بھی مانگی ہے۔ مظاہرین کی طرف سے بھی ایک رپورٹ وزیراعظم دفتر کوبھیج کر صورتحال سے واقف کراتے ہوئے مسٹر خان کو کسی دوسری جگہ تبادلہ کرنے کے لئے مداخلت کرنے کی مانگ کی جائے گی۔

اوجھا نے بتایا کہ سنیچر کو علامتی طورپر بی ایچ یو مین گیٹ لنکا چوراہے سے طلبا احتجاجی مظاہر ہ کرتے ہوئے رویندرپوری میں واقع وزیراعظم کے پارلیمانی دفتر تک جائیں گے اور وہاں وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک میمورنڈم دیکر طلبا کے جذبات سے انہیں واقف کرایا جائے گا۔

دوسری طرف یونیورسٹی کے رابطہ عامہ کے افسر ڈاکٹر راجیش سنگھ نے کہا کہ فیروز خان کی تقرری یونیورسٹی کے ضابطوں اور التزامات کے مطابق کی گئی ہے۔ اس معاملہ میں طلبا کی مخالفت کو مناسب نہیں کہا جاسکتا ہے۔ تقرری معاملہ پر جاری تنازعہ سے پریشان بی ایچ یو انتظامیہ نے طلبا کے دھرنا ختم کرنے سے فی الحال راحت کی سانس لی ہے لیکن یونیورسٹی کمپلکس میں احتیاطاََ سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔