لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد ستیہ گرہ پر بیٹھے اپوزیشن لیڈر، سونیا-راہل بھی شامل

اڈانی معاملہ پر اپوزیشن اور راہل گاندھی کے لندن والے بیان پر برسراقتدار جماعت کے ارکان کی ہنگامہ آرائی جمعہ کو بھی جاری رہی، جس کے سبب راجیہ سبھا اور لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران دونوں ایوانوں راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں حکمراں جماعت اور حزب اختلاف کے ارکان کی ہنگامہ آرائی جمعہ کے روز بھی جاری رہی۔ مختلف موضوعات پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے درمیان ایوانوں کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی گئی۔

دریں اثناء اپوزیشن لیڈر پارلیمنٹ ہاؤس میں گاندھی مجسمہ کے سامنے احتجاج کرنے بیٹھ گئے ہیں۔ اس میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی بھی شامل ہیں۔ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ اب تک ہنگامہ خیز رہا ہے۔ مرکزی حکومت راہل گاندھی کے لندن میں دیے گئے بیانات کو لے کر ان کا گھیراؤ کر رہی ہے۔ حکمران پارٹی راہل گاندھی سے مسلسل معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ساتھ ہی کانگریس کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی نے کچھ غلط نہیں کہا، اس لیے معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔


دہلی میں اپوزیشن لیڈروں نے پارلیمنٹ میں گاندھی کے مجسمے کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے اڈانی کیس کی جے پی سی جانچ کا مطالبہ کیا۔ کانگریس ایم پی اور یو پی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے احتجاج میں شامل ہوئے۔

اس سے قبل بی جے پی صدر جے پی نڈا نے الزام لگایا کہ ’’راہل گاندھی ہندوستان کے خلاف کام کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔ انہیں ہندوستان کے اندرونی معاملات میں بیرونی طاقتوں سے 'مداخلت' کا مطالبہ کرنے پر معافی مانگنی ہوگی۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


;