’آپریشن سندور‘ نے ثابت کیا کہ کوئی بھی ہدف ہندوستانی فضائیہ کی پہنچ سے باہر نہیں: ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ

اے پی سنگھ کے مطابق مستقبل کی جنگیں اپنی نوعیت کے اعتبار سے بیک وقت کئی محاذوں پر لڑی جائیں گی۔ ایسے میں بری فوج، بحریہ اور فضائیہ پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ قریبی تال میل کے ساتھ کام کریں گی۔

<div class="paragraphs"><p>ایئر چیف مارشل امرپریت سنگھ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

’’ہندوستانی فضائیہ نے آپریشن سندور کے دوران مغربی محاذ پر 12000 کلومیٹر کی چوڑائی اور 200 کلومیٹر کی گہرائی تک ہدف پر مبنی حملے کیے۔ اس سے ثابت ہوا کہ فضائیہ کی پہنچ سے باہر کوئی ہدف نہیں ہے۔‘‘ فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے اتوار (25 اکتوبر) کو یہ بات کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’آپریشن سندور‘ نے فضائیہ کی صلاحیت پر مبنی حکمت عملی کو درست ثابت کیا۔ اس مہم نے یہ بھی دکھایا کہ ملک کی سلامتی کے لیے فضائی طاقت جوابی کارروائی کی سب سے اہم صلاحیت اور اسٹریٹجک روک تھام کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اس مہم میں حاصل ہونے والی کامیابی کی بنیاد پر فضائیہ کو اپنی تیاریوں میں سستی نہیں آنے دینی چاہیے۔ مستقبل میں اس صلاحیت کو مزید وسیع اور مضبوط بنانے پر توجہ دینی ہوگی۔

ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے کہا کہ ’تھیٹرائزیشن‘ کے عمل کا مقصد لڑاکا طیاروں کو جغرافیائی علاقوں کی بنیاد پر مستقل طور پر تقسیم کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہندوستانی فضائیہ تینوں افواج کے درمیان مشترکہ کارروائیوں اور انضمام کے عمل کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ان کے مطابق مستقبل کی جنگیں اپنی نوعیت کے اعتبار سے بیک وقت کئی محاذوں پر لڑی جائیں گی۔ ایسے میں بری فوج، بحریہ اور فضائیہ پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ قریبی تال میل اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں گی۔


’تھیٹرائزیشن‘ پر بات کرتے ہوئے فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ متحدہ فوجی ڈھانچے کے اندر فضائی طاقت کا زیادہ سے زیادہ مؤثر استعمال کیسے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں رہنما اصول یہ ہونا چاہیے کہ جہاں ضروری ہو، وہاں کنٹرول مرکزی سطح پر رکھا جائے اور جہاں مناسب ہو، وہاں کارروائی کی ذمہ داری کو غیر مرکزی بنایا جائے۔

امر پریت سنگھ نے کہا کہ مستقبل کا فوجی ڈھانچہ تیار کرتے وقت اس تصور سے بچنا چاہیے کہ آنے والے وقت میں میدان جنگ کی نوعیت کو مکمل یقین کے ساتھ پہلے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہندوستان کے فوجی ڈھانچے کا جائزہ ملک کی سلامتی کی ضروریات کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے، نہ کہ دوسرے ممالک کے ماڈل کی نقل کر کے۔