آپریشن سندور بدستور جاری، کسی بھی مہم جوئی کا مؤثر جواب دیا جائے گا: فوجی سربراہ

بری فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے کہا کہ آپریشن سندور جاری ہے، شمالی سرحدوں پر حالات قابو میں ہیں مگر چوکسی برقرار ہے، کسی بھی مہم جوئی کا سخت اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے کہا ہے کہ آپریشن سندور اب بھی جاری ہے اور آئندہ کسی بھی مہم جوئی یا اشتعال انگیزی کی صورت میں مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کی شمالی سرحدوں پر مجموعی طور پر حالات قابو میں ہیں، تاہم مسلسل چوکسی برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اعلیٰ سطحی بات چیت، رابطوں کی بحالی اور اعتماد سازی کے اقدامات کے باعث صورتِ حال میں بتدریج معمول کی طرف واپسی ہو رہی ہے، لیکن حفاظتی تیاریوں میں کسی قسم کی کمی نہیں کی گئی۔

فوج کے سربراہ نے بتایا کہ پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے کے بعد اعلیٰ ترین سطح پر فوری اور فیصلہ کن ردعمل کا واضح فیصلہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں آپریشن سندور کی منصوبہ بندی اور اس کا نفاذ انتہائی درستگی اور مضبوط حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی سرحد پار دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی تیاری، فیصلہ سازی کی صلاحیت اور اسٹریٹجک وضاحت کی عکاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ سات مئی دو ہزار پچیس کو بائیس منٹ کی تیز رفتار کارروائی اور اس کے بعد دس مئی تک جاری رہنے والے اٹھاسی گھنٹوں کے مربوط آپریشن کے دوران دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران دہشت گرد نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا گیا اور برسوں سے جاری جوہری دھمکیوں کی بیان بازی کو مؤثر طور پر غیر مؤثر بنایا گیا۔ ان کے مطابق آپریشن کے دوران نو میں سے سات طے شدہ اہداف کو کامیابی کے ساتھ تباہ کیا گیا اور اس کے بعد پاکستان کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل کا متوازن، نپا تلا اور قابو میں رکھا گیا جواب دیا گیا۔


جنرل اوپیندر دویدی نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستانی سرحد سے متصل پاکستانی قبضے والے علاقوں میں اب بھی تقریباً آٹھ دہشت گرد کیمپ موجود ہیں، جن میں سے دو بین الاقوامی سرحد اور چھ لائن آف کنٹرول کے سامنے واقع ہیں۔ بری فوج ان تمام مقامات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی مشتبہ حرکت کی صورت میں کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے سی اے پی ایف، خفیہ ایجنسیوں، شہری اداروں، ریاستی انتظامیہ اور مختلف مرکزی وزارتوں کے تعاون کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ واضح سیاسی ہدایات، فوجی قیادت کو مکمل آزادی اور تینوں افواج کے درمیان ہم آہنگی آپریشن سندور کی نمایاں خصوصیات رہیں۔ ان کے مطابق مستقبل کی جنگیں کسی ایک شعبے سے نہیں بلکہ قومی سطح پر مشترکہ کوششوں، جوائنٹ نیس، خود کفالت اور جدید اختراع کے ذریعے ہی جیتی جائیں گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔