کانگریس ہی غریبوں اور محروم طبقات کے حقوق کی حفاظت کرسکتی ہے

م-افضل نے کہا کہ کانگریس نے اپنے عمل سے اس بات کو ثابت بھی کیا ہے کہ وہ کمزور اور محروم طبقات کی سچی ہمدرد ہے، اب لوگوں میں یہ یقین بھی مضبوط ہوا ہے کہ کانگریس جو کچھ کہتی ہے اس پر عمل بھی کرتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس صدر راہل گاندھی کے اس اعلان کا سابق ممبر پارلیمنٹ وسفارت کار م۔افضل نے خیرمقدم کیا ہے کہ برسر اقتدار آنے پر کانگریس غریبوں کو کم از کم آمدنی کی ضمانت کا حق دے گی۔

یہاں جاری اپنے ایک بیان میں م-افضل نے آج کہا کہ کانگریس کے صدر نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ کانگریس کے دور حکومت میں ہی غریبوں اور محروم طبقات کے حقوق محفوظ رہ سکتے ہیں اور ان کی زندگی کو بہتر بنانے کے مؤثر اقدامات ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے کے 5 سالہ دور حکومت میں جو کچھ ہوا ہے اس کے بعد ملک کے عوام کی اکثریت یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ کانگریس ہی ان کی حقیقی ہمدرد پارٹی ہے جو ان کے مفادات کو اپنے منصوبوں میں اولیت دیتی ہے۔

م-افضل نے مزید کہا کہ کانگریس نے اب تک اپنے عمل سے اس بات کو ثابت بھی کیا ہے کہ وہ کمزور اور محروم طبقات کی سچی ہمدرد ہے اب لوگوں میں یہ یقین بھی مضبوط ہوا ہے کہ کانگریس جو کچھ کہتی ہے اس پر عمل بھی کرتی ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان کا حوالہ دیا اور کہا کہ انتخابی مہم کے دوران کانگریس صدر نے اعلان کیا تھا کہ کانگریس کی سرکار بنتے ہی کسانوں کا قرض معاف ہوگا اور کانگریس کی ریاستی سرکاروں نے اقتدار میں آتے ہی پارٹی صدر کے اس وعدہ کو پورا کیا۔
انہوں نے کہا کہ گاندھی کے اس تازہ اعلان نے بی جے پی پر ایک سکتہ سا طاری کردیا ہے چنانچہ اب کچھ بی جے پی لیڈر یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اس اعلان کو پورا کرنے کے لئے کانگریس وسائل کا انتظام کہاں سے کرے گی؟۔

م-افضل نے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سربراہی میں جب یو پی اے سرکار نے غذائی تحفظ اسکیم اور دیہی علاقوں میں 100 دن کا کم ازکم روزگار مہیا کرانے کا منصوبہ تیار کیا تھا تو اس وقت بھی بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹیوں کی طرف سے کچھ اسی طرح کے سوالات اٹھائے گئے تھے مگر پھر لوگوں نے دیکھا کہ یہ ’اسکیمیں‘ نہ صرف کامیاب رہیں بلکہ ان سے دیہی علاقوں کے غریب لوگوں کی زندگی میں بہتری آئی۔ ’’منریگا‘‘ ’اسکیم‘ کی مختلف حلقوں کی طرف سے نہ صرف ستائش ہوئی بلکہ اسے ایک انقلابی اسکیم سے تعبیر کیا گیا۔ یہاں تک کہ جب مودی سرکار اقتدار میں آئی تو وہ بھی اس اسکیم کو اپنانے پر مجبور ہوگئی۔

م-افضل نے کہا کہ چونکہ کانگریس کی نیت میں خلوص اور ایمانداری شامل رہتی ہے اس لئے یہ میگا اسکیم کامیاب رہی۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک اسی طرح کانگریس اقتدار میں آنے پر اپنے صدر کے مندرجہ بالا اعلان کو پورے خلوص اور ایمانداری سے عملی شکل میں نافذ کرے گی اور یہ اسکیم بھی غریبوں کے لئے دوسری ’’منریگا‘‘ اسکیم ثابت ہوگی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔