دلت طالب علم کی موت اعلیٰ ذات کی شرپسندی تو نہیں!

دلیپ قانون کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ عام طلبا کی طرح وہ بھی ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں محنت سے پڑھائی کر رہا تھا لیکن اس کی بدقسمتی یہ تھی کہ وہ ایک دلت نوجوان تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ناصرالدین

اتر پردیش سے ایک بار پھر دل دہلا دینے والی خبر موصول ہو رہی ہے۔ الٰہ آباد میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے ایک دلت طالب علم کی اس بے دردی کے ساتھ پٹائی کی گئی ہے کہ اس نےآخر دَم توڑ دیا۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ پٹائی صرف اس لیے ہوئی کہ دلت طالب علم کا پیر ایک صاحب کے پیر سے چھو گیا۔ ذرائع کے مطابق اس واقعہ نے پہلے گالی گلوچ کی شکل اختیار کی جو بعد میں مار پیٹ میں بدل گئی۔ اس پورے واقعہ کا ویڈیو بھی لوگوں نے تیار کیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ دلت طالب علم کی پٹائی وحشت ناک انداز میں کی گئی ہے۔یہ پٹائی اس وقت تک جاری رکھی گئی جب تک کہ وہ زخم کی تاب سے بیہوش نہ ہو گیا۔

دلت طالب علم کی پٹائی کا ویڈیو اتنا دردناک ہے کہ اس کو دیکھنے سے پہلے عام لوگوں کو کلیجے پر پتھر رکھنا ہوگا۔ پٹائی کا یہ واقعہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ سوچنے پر مجبور بھی کرتا ہے کہ ہمارا سماج کس طرف جا رہا ہے۔ پٹائی کا واقعہ گزشتہ جمعہ کی شب کا ہے۔ دلیپ سروج نام کے اس طالب علم کی موت اتوار کی صبح ہوئی۔ الٰہ آباد کے باہر کی زیادہ تر دنیا کو یہ خبر پیر کی صبح اخبارات سے چلی۔ ویڈیو فوٹیج دیکھ کر اور دردناک مار پیٹ کی خبر پڑھ کر بخوبی محسوس ہوتا ہے جیسے یہ واقعہ کسی دو گروپ کی آپسی رنجش کا نتیجہ نہیں ہے۔ خبروں میں یہ بھی واضح ہے کہ یہ دبنگوں کا تصادم نہیں اور نہ ہی بالادستی کی کوئی لڑائی ہے۔ وجہ جو بھی ہو، لیکن دلت طالب علم کی پٹائی اور پھر موت بی جے پی کی ناقص حکمرانی کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہے۔

پٹائی کے ویڈیو میں جس بے رحمی کا مظاہرہ کیا گیا ہے، جو نفرت نظر آ رہی ہے وہ ہولناک ہے۔ جو کچھ ہاتھوں میں آ رہا ہے شرپسند افراد اس کا استعمال دلیپ اور اس کے دوستوں پر کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ راڈ، ڈنڈے، اینٹ، پتھر اور کرسیوں سے دلیپ کے سر سے لے کر پیر تک پر حملے کیے گئے۔ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا، شاید اس واقعہ کو بیان کرنے کے لیے ’جملہ‘ لفظ ناکافی ہے۔ یا یوں کہیے کہ کوئی ایک ایسا لفظ نہیں ہے جو اس واقعہ کی صحیح ترجمانی کر سکے۔

اس واقعہ میں نفرت آمیز تشدد کا عکس نظر آتا ہے۔ اس پٹائی کو کچھ لوگ الگ الگ باتوں سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں جس طرح سے دلتوں اور خصوصاً تعلیم حاصل کر رہے دلت نوجوانوں پر حملے بڑھے ہیں، یہ اسی کی ایک کڑی بھی بتائی جا رہی ہے۔ اتنا ہی نہیں، سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اتر پردیش کی یوگی حکومت میں جس طرح دلت نوجوانوں کی آواز کو دبانے کی کوشش ہو رہی ہے، یہ اسی کا اثر تو نہیں ہے؟ یہ کمزور لوگوں کو دبانے کی سیاست کا حصہ تو نہیں ہے؟

دلیپ قانون کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ عام طلبا کی طرح وہ بھی ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں محنت سے پڑھائی کر رہا تھا۔ لیکن وہ ایک دلت نوجوان تھا۔ صدیوں سے نفرت اور غیر برابری کا سامنا کر رہے طبقہ کا حصہ تھا۔ ظاہر ہے، تعلیم نے اس کا حوصلہ بڑھایا ہوگا۔ یہی حوصلہ، خودداری کی وجہ بھی بنتی ہے۔ دلت نوجوانوں کی نئی نسل اس خودداری کے لیے کھل کر جدوجہد کر رہی ہے۔ اتر پردیش میں چندر شیکھر آزاد ’راون‘ اور اس کی ’بھیم آرمی‘ اسی خودداری اور وقار کے دعوے کی پیداوار ہے۔ مگر وہ بھی نفرتی تشدد کا ہی شکار ہے۔

بابا صاحب امبیڈکر نے دلتوں کو صلاح دی تھی کہ وہ تعلیم حاصل کریں، جدوجہد کریں، متحد ہوں۔ لیکن تعلیم، جدوجہد، اتحاد اور اعزاز سے زندگی کی للک پیدا ہونا دلتوں کے لیے ہلاکت خیز ثابت ہو رہی ہے۔ جیسے جیسے ان میں باوقار زندگی بسر کرنے اور اپنے حقوق کے استعمال کرنے کی خواہش بڑھ رہی ہے ویسے ویسے ان کے ساتھ تشدد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کی اخلاقی ہمت، اتحاد اور جدوجہد کو توڑنے کی رفتار بھی تیز ہو رہی ہے۔ ان معنوں میں اتر پردیش میں پیش آئے واقعات فکر انگیز ہیں۔ دلتوں کی سیاست کا بڑا مرکز ہونے کے بعد بھی یہ دلت عزت کے قابل اب تک نہیں بن پائے ہیں۔

دلیپ کی موت تو ہو چکی ہے لیکن اس کے قتل کا انصاف محض چند گرفتاری نہیں ہو سکتی۔ انصاف تبھی ہوگا جب دلتوں کو سماجی وقار، سماجی انصاف اور سماجی برابری کے حق کی گارنٹی دی جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔