پیاز برآمد پر پابندی: کسانوں میں غم و غصہ، پی ایم مودی کی تصویر پر پیاز کی مالا ڈال کر احتجاج

پیاز کی برآمد پر پابندی کے خلاف گزشتہ روز کانگریس نے ریاست گیر احتجاج کیا، جس میں کانگریس کارکنان و عہدیداران کے علاوہ بڑی تعداد میں کسانوں نے بھی حصہ لیا اور سڑکوں پر اتر کر صدائے احتجاج بلند کی

تصویر بشکریہ ٹوئٹر
تصویر بشکریہ ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

ممبئی: مودی حکومت کے پیاز کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے سے کسان پریشانی میں آ گئے ہیں اور حکومت سے اس فیصلے کو واپس لینے کی اپیل کر رہے ہیں۔ پیاز کی برآمد پر پابندی کے خلاف گزشتہ روز کانگریس نے ریاست گیر احتجاج کیا، جس میں کانگریس کارکنان و عہدیداران کے علاوہ بڑی تعداد میں کسانوں نے بھی حصہ لیا اور سڑکوں پر اتر کر صدائے احتجاج بلند کی۔

احتجاج کے دوران مھارشٹرا کانگریس کے ریاستی صدر و وزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے کسانوں کے مطالبات کو سنے جانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، ’’کورونا بحران سے ہونے والے نقصانات سے کسان تھوڑا ابھر رہے تھے کہ مرکز کی مودی حکومت نے کسانوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ بازار میں پیاز کی ٹھیک ٹھاک قیمت مل رہی تھی کہ اچانک پیاز برآمد کرنے پر پابندی عائد کر کے مودی حکومت نے کسانوں کو زبردست نقصان پہونچایا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’مودی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف کسانوں میں زبردست غصہ پیدا ہوگیا ہے، لیکن ریاستی حکومت نہایت مضبوطی سے کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ مرکزی حکومت جب تک پیاز کی برآمدات پر عائد پابندی ختم نہیں کرتی ہے، اس وقت تک کانگریس کی ریاست گیر تحریک جاری رہے گی۔‘‘

ناسک میں ہوئے احتجاج میں لوگوں نے مودی کے گلے میں پیاز کی مالا پہنا کر مرکزی حکومت کی کسان مخالف پالیسی کے خلاف احتجاج کیا جبکہ پونے، دھولیہ ضلع کے ساکری، کولہاپور، رتناگیری، تھانے، پربھنی، اورنگ آباد، شولاپور سمیت ریاست کے تمام اضلاع کے صدردفاتر کے سامنے نیز تعلقہ جات سطح پر احتجاج کیا گیا۔ سنگم نیر تعلقہ میں کانگریس کمیٹی نے احتجاج کرتے ہوئے سب ڈویژنل آفیسر ششی کانت منگرولے کو میمورنڈم دیا۔ کانگریسی کارکنان نے مرکزی حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔

اس موقع پر مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بالاصاحب تھورات نے کہا کہ کسان ہمیشہ کبھی سیلاب تو کبھی ژالہ باری سے جھوجھتے رہتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ریاستی حکومت مختلف طریقوں سے کسانوں کی مدد کرتی رہتی ہے، لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے کبھی اس طرح کی مدد نہیں کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل دودھ کے پاوڈر درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ہزاروں ٹن دودھ کا پاوڈر جوں کا توں رہ گیا او رجس کے نتیجے میں دودھ کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔

اسی طرح اب پیاز کی قیمتیں تھوڑی زیادہ ملنے لگی تھیں کہ برآمدات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کردیاگیا جس کے نتیجے میں پیاز کی قیمت سات سو سے آٹھ سوروپئے فی کوئنٹل تک کم ہوگئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے کسانوں بدترین حالات کے شکار ہورہے ہیں۔

    next