’وَن نیشن، وَن الیکشن بل‘ آئین کی بنیادی خصوصیات کی خلاف ورزی کرتا ہے: پی چدمبرم

کانگریس لیڈر پی چدمبرم کا کہنا ہے کہ ’’میں نے جے پی سی کے چیئرمین کا مبینہ بیان پڑھا ہے کہ 2029 میں بیک وقت انتخابات ممکن ہیں۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کی یہ رائے غلط ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ایک ملک، ایک انتخاب</p></div>
i

ماہر معاشیات اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے ’وَن نیشن، وَن الیکشن بل‘ پر آج اپنا سخت موقف سامنے رکھا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے سامنے انھیں اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع ملا، جس میں اپنی باتیں کھل کر رکھیں۔ اس بارے میں کانگریس لیڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک مختصر لیکن جامع پوسٹ جاری کی ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’میں شکر گزار ہوں مجھے ’وَ نیشن، وَن الیکشن‘ پر جے پی سی کے سامنے اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع ملا۔ مجھے جے پی سی کے سامنے دی گئی اپنی شہادت کی تفصیلات ظاہر کرنے کی اجازت نہیں ہے، لیکن میری گواہی کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ یہ بل آئین کی بنیادی خصوصیات کی خلاف ورزی کرتا ہے، خاص طور پر وفاقی ملک میں پارلیمانی جمہوریت کے اصولوں کی۔‘‘

اس پوسٹ میں انھوں نے جے پی سی چیئرمین کے ایک بیان پر اپنا عدم اطمینان بھی ظاہر کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’میں نے جے پی سی چیئرمین کا مبینہ بیان پڑھا ہے کہ 2029 میں بیک وقت انتخابات ممکن ہیں۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کی یہ رائے غلط ہے اور بل کے متن کے خلاف ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر یہ بل منظور بھی ہو جاتا ہے (جس کا امکان بہت کم ہے)، تب بھی بل کے تحت ’مقررہ تاریخ‘ صرف ایسی تاریخ ہو سکتی ہے جو ’عام انتخابات کے بعد‘ کی ہو۔ اگلے عام انتخابات 2029 میں ہوں گے۔ لہٰذا 2029 میں بیک وقت انتخابات ممکن نہیں ہیں، جو ایک نعمت ہے۔‘‘


کانگریس لیڈر نے ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کے کچھ عزائم کا اظہار بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں اس بل کے خلاف ملک گیر مہم چلائیں گی، کیونکہ وفاقی ملک میں پارلیمانی جمہوریت کے لیے یہ ایک آئینی بدعت ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق چدمبرم کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون آئین کے بنیادی ڈھانچہ، خصوصاً پارلیمانی جمہوریت کے اصل اصولوں کو کمزور کرتا ہے۔ انھوں نے دلیل پیش کی کہ عوام کے ذریعہ منتخب کی گئی کسی بھی اسمبلی کی مدت کار 5 سال مقرر ہے اور قانون کے ذریعہ اس کی مدت کار وقت سے پہلے ختم کرنا آئینی طور سے مناسب نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ پر غور و خوض کے لیے بنی جے پی سی نے پیر کے روز میراتھن میٹنگ بلا کر 4 حصوں میں الگ الگ گروپوں اور ماہرین کی رائے لی۔ اس میں پیر کے روز قانون داں اور سینئر رکن پارلیمنٹ پی چدمبرم کو بھی ایک حصہ کی میٹنگ میں بلایا گیا تھا۔ دوسرے حصہ میں 10 پدم ایوارڈ یافتگان کو، تیسرے حصہ میں نیشن فرسٹ پالیسی ریسرچ سنٹر اور چوتھے حصہ میں لاء سنٹر کو ان کا موقف پیش کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جے پی سی چیئرمین پی پی چودھری نے میٹنگ کے بعد کہا کہ کمیٹی سبھی کے نظریات اور مشوروں پر گہرائی سے اسٹڈی کرے گی۔ حالانکہ انھوں نے اس دعویٰ کو خارج کیا کہ ایک ساتھ انتخابات کرانے کی پیش قدمی آئین کے بنیادی ڈھانچوں کی خلاف ورزی کرتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔