موج پور تشدد میں ایک پولس اہلکار اور فرقان نامی شخص ہلاک

دہلی پولس نے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کے ساتھ کہا ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور تشویشناک تصاویر عام نہ کریں۔اس درمیان شمال مشرقی ضلع میں 10 مقامات پر دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں ترمیم شدہ شہریت ایکٹ کی مخالفت اور موافقت کرنے والوں میں آج پھرتصادم ہوا جس میں دہلی پولیس کے مطابق سہ پہر کے وقت جھڑپوں میں ایک ہیڈ کانسٹیبل ہلاک ہوگیا۔ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ جھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ دہلی پولس نے لوگوں سے امن کی اپیل کے ساتھ کہا کہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور تشویشناک تصاویر عام نہ کریں۔شمال مشرقی ضلع میں 10 مقامات پر دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔

سی اے اے مخالف اور حامی گروپ کے درمیان ہوئے تصادم میں ایک محمد فرقان نامی شخص کی ہلاکت کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ شرپسندوں کے پتھراؤ کا شکار ہوا اور زخموں کی تاب نہ لا کر دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔

جعفرآباد اور موج پور علاقوں میں کم سے کم دو مکانات اور ایک دمکل گاڑی کو آگ لگا نے کی بھی اطلاع ملی ہے۔ ایک سے زیادہ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کیلئے نیم فوجی دستوں کو طلب کر لیا گیا ہے۔ حالات کی شدت کے پیش نظر دہلی میٹرو نے جعفرآباد اور موج پور-بابر پور اسٹیشنوں کو بند کر دیا ہے۔ ان اسٹیشنوں پر ٹرینیں نہیں روکی جائیں گی۔

چاند باغ میں بھی تشدد برپا ہونےکی اطلاع ملی ہے جو جعفرآباد کا علاقہ ہے ۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے مبینہ طور پر آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔ جعفرآباد کے قریب کل شام سے ہی فضا کشیدہ تھی جہاں ترمیم شدہ شہریت ایکٹ کی مخالفت اور موافقت کرنے والوں کے مابین جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔

Published: 24 Feb 2020, 8:30 PM