کل ہو سکتی ہے بجلی کی پریشانی ،بجلی کے ملازمین کل کریں گے کام کا بائیکاٹ

بجلی ترمیمی بل کو قائمہ کمیٹی کو بھیجا جانا چاہیےاور پاور سیکٹر کے سب سے اہم اسٹیک ہولڈر بجلی کے صارفین اور پاور ملازمین کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے اپنا رخ پیش کرنے کا پورا موقع دیا جانا چاہیے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بجلی ملازمین بجلی ترمیمی بل سے سخت ناراض ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ اس کو جلد بازی میں پارلیمنٹ میں پیش کر کے اسے منظور کرا لیا جائے۔ اگر یہ ترمیمی بل پارلیمنٹ میں منظور ہو جاتا ہے تو وہ دن دور نہیں جب کسانوں کی طرح بجلی ملازمین بھی مکمل ہڑتال پر چلے جائیں اور حکومت کے لئے ایک اور پریشانی کھڑی ہو جائے۔

واضح رہے بجلی ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں 15 لاکھ بجلی ملازمین اور انجینئر 10 اگست کو یعنی کل ایک روزہ ملک گیر ہڑتال کریں گے جس کی وجہ سے عوام کو بجلی سے متعلق پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔


آل انڈیا پاور انجینئرز فیڈریشن کے چیئرمین شیلیندر دوبے نے اتوار کو کہا کہ 3 سے 6 اگست تک الگ الگ ریاستوں کے ہزاروں بجلی ملازمین، جونیئر انجینئرز اور انجینئرز نے دہلی میں جنترمنتر پر پابندی کے باوجود بجلی (ترمیمی) بل 2021 واپس لینے کے مطالبہ کے لئے ستیہ گرہ کرکے اپنا احتجاج درج کرایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ستیہ گرہ کی کامیابی سے پرجوش بجلی کارکن 10 اگست کو ایک دن کی ہڑتال یا کام کا بائیکاٹ کریں گے۔ اگر مرکزی حکومت بجلی (ترمیمی) بل 2021 کو پاس کرانے کے لیے کوئی یکطرفہ کارروائی کرتی ہے اور 10 اگست سے پہلے یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے تو بجلی کے ملازمین اسی دن ہڑتال / کام کا بائیکاٹ کریں گے۔


مسٹر دوبے نے مطالبہ کیا کہ بل کو جلد بازی میں پارلیمنٹ سے منظور کرانے کے بجائے اسے بجلی کی امور کی قائمہ کمیٹی کو بھیجا جانا چاہیے۔ پاور سیکٹر کے سب سے اہم اسٹیک ہولڈر بجلی کے صارفین اور پاور ملازمین کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے اپنا رخ پیش کرنے کا پورا موقع دیا جانا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔