بہار پر کورونا وائرس سے زیادہ آسمانی بجلی کا قہر، ایک ہفتہ میں 125 سے زائد ہلاکتیں

بہا رمیں آسمانی بجلی سے مرنے والوں کی تعداد گزشتہ دنوں میں کافی بڑھ گئی ہے۔ جمعرات کے روز بھی آسمانی بجلی کی وجہ سے 26 لوگ ہلاک ہو گئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بہار میں اب تک جتنے لوگوں کی موت کورونا وبا سے نہیں ہوئی ہے، اس سے زیادہ اموات گزشتہ ایک ہفتہ میں آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے ہو گئی ہے۔ بہار میں گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران 125 سے زیادہ لوگوں کی موت آسمانی بجلی کی زد میں آنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ جمعرات کو ایک بار پھر بہار میں آسمانی بجلی گرنے کا واقعہ سرزد ہوا جس میں 26 لوگوں کی موت ہو گئی۔

بہار کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ کے ایک افسر نے بتایا کہ مختلف ضلعوں سے فون پر ملی خبر کے مطابق ریاست میں جمعرات کو آسمان سے بجلی گرنے سے 26 لوگوں کی موت ہو گئی۔ ان میں پٹنہ میں 6، مشرقی چمپارن میں 4، سمستی پور میں 7، کٹیہار میں 3، شیوہر اور مدھے پورہ میں 2-2 اور پورنیہ و مغربی چمپارن ضلع میں 1-1 افراد کی موت آسمانی بجلی کی زد میں آنے سے ہو گئی۔

اس درمیان محکمہ موسمیات نے اگلے 48 گھنٹے میں بہار میں زبردست بارش اور بجلی چمکنے کے لیے الرٹ جاری کیا ہے۔ اس سے پہلے منگل کو بہار کے مختلف اضلاع میں آسمانی بجلی گرنے سے 11 لوگوں کی موت ہو گئی تھی جب کہ 26 جون کو ریاست میں اسی طرح کے حادثہ میں 96 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

یہاں قابل ذکر ہے کہ بہار میں کورونا وبا کی وجہ سے اتنی اموات نہیں ہوئیں جتنی کہ آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے محض ایک ہفتے میں ہو گئی ہیں۔ جہاں تک کورونا کے قہر کا سوال ہے تو بہار میں اب تک 10 ہزار سے زائد لوگ اس وائرس کے انفیکشن میں اب تک مبتلا پائے گئے ہیں جن میں سے 78 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ اس سے صاف ہے کہ کورونا جیسی کسی وبا سے زیادہ بہار کے لوگوں کے لیے غریبی اور خط افلاس کی زندگی خطرناک ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ آسمانی بجلی کا شکار زیادہ تر غریب اور بے گھر لوگ ہی ہوتے ہیں۔

Published: 3 Jul 2020, 1:11 PM
next