عالمی یومِ جمہوریت کے موقع پر ملکارجن کھڑگے کا بیان، ’پچھلے 10 سال میں جمہوری ڈھانچے کو تباہ کرنے کی منظم کوشش‘

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ‘عالمی یومِ جمہوریت’ کے موقع پر کہا کہ گزشتہ 10 سال میں جمہوری ڈھانچے کو تباہ کرنے کی منظم کوششیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے 2024 کو ہندوستانی جمہوریت کے لیے اہم سال قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے / آئی اے این ایس</p></div>

ملکارجن کھڑگے / آئی اے این ایس

user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے 'عالمی یومِ جمہوریت' کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ 2024 ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک اہم سال ہے۔ انہوں کہا کہ پچھلے 10 سالوں میں ’جمہوری ڈھانچے کو تباہ کرنے، اداروں کو تباہ کرنے اور ان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی منظم کوششیں کی گئی ہیں۔‘‘

کانگریس صدر کھڑگے نے کہا کہ 2024 میں 140 کروڑ ہندوستانیوں نے ایک ایسا مینڈیٹ دیا ہے جو ہمارے قومی تخلیق کاروں کی محنت سے تیار کردہ دیرپا اداروں پر اعتماد کو برقرار رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دن ہمیں اپنی پارلیمانی جمہوریت اور آئین کی قدروں کو برقرار رکھنے اور ان کی حفاظت کرنے کے لیے زیادہ چوکنا رہنا ہوگا۔


ملکارجن کھڑگے نے ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’جمہوریت حکومت کی بہترین شکل ہے۔ یہ لوگوں کو یہ فیصلہ کرنے کا حق دیتی ہے کہ ان پر کس طرح حکومت کی جائے اور وہ اپنے رہنماؤں کو جوابدہ ٹھہرا سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج جمہوریت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہیں، جس سے ہمارے دیرپا اداروں پر اعتماد بحال ہوا ہے۔

عالمی یومِ جمہوریت کے موقع پر کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا، ’’اب ہمیں اپنے پارلیمانی جمہوریت اور آئین کے اصولوں کو برقرار رکھنے اور ان کی حفاظت کرنے کے لیے مزید چوکس رہنا ہوگا، جن میں ‘ہم، ہندوستان کے لوگ’ اجتماعی طور پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس دن کے موقع پر ہمیں ہندوستان کی بنیادی روح کے لیے دوبارہ خود کو وقف کرنا چاہیے، جو انصاف، آزادی، برابری اور بھائی چارے کے اصولوں پر مبنی ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2007 میں 15 ستمبر کو عالمی یومِ جمہوریت کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس دن دنیا بھر میں جمہوریت کے اصولوں کی اہمیت اور اس کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔