غیر کشمیریوں کے قتل پر کانگریس نے پی ایم مودی کو یاد دلایا ان کا وعدہ

کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے پی ایم مودی کو یاد دلایا کہ ’’اپنے کشمیر دورہ کے دوران میں نے کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی واپسی کا اثر کشمیر پر بھی پڑ سکتا ہے، لیکن آپ نے توجہ نہیں دی۔‘‘

 ادھیر رنجن چودھری، تصویر یو این آئی
ادھیر رنجن چودھری، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر سے دفعہ 35 اے اور 370 ہٹانے کے دوران مودی حکومت نے جو خواب پورے ملک کو دکھائے تھے، وہ محض جملہ تھا۔ یا یوں کہیں کہ ووٹ بٹورنے کا ذریعہ۔ ایک حد تک مودی حکومت اس میں کامیاب بھی ہوئی۔ لوگوں نے آنکھ بند کر حکومت پر یقین بھی کیا۔ لیکن جو نظر آتا ہے وہ ہوتا نہیں ہے، یہ ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے۔

دراصل مودی حکومت نے جموں و کشمیر میں جو لوگوں کی سیکورٹی اور دہشت گردی ختم کرنے کا وعدہ کیا وہ پورا نہیں ہوا ہے۔ اس کی تازہ مثال جموں و کشمیر میں ہو رہی غیر کشمیری مزدوروں کے قتل ہیں۔ گزشتہ ایک مہینے میں جموں و کشمیر میں 11 لوگوں کا قتل ہو گیا ہے، جن میں ریہڑی پٹری والے جیسے لوگ شامل ہیں۔


اب اس معاملے کو لے کر کانگریس کے سینئر لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ادھیر رنجن نے مودی حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات چیت کے دوران کہا کہ یہ فکر کا موضوع ہے۔ ہمیں برا لگتا ہے جب ہمارے فوجی، بے قصور شہری مارے جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت بتائے کہ ان کا کیا رخ ہے، کیونکہ انھوں نے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ 35 اے اور 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو جائے گی۔

کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے آگے کہا کہ اپنے کشمیر دورہ کے دوران میں نے کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی واپسی کا اثر کشمیر پر بھی پڑ سکتا ہے۔ میں نے اپنی فکر بھی ظاہر کی کہ کشمیر میں یہ سناٹا آنے والے طوفان کا اشارہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔