بابری مسجد ملکیت مقدمہ: روز سماعت ہو پھر بھی فیصلہ آنے میں لگیں گے 8 مہینے

بابری مسجد۔ رام مندر معاملہ میں کل 87 گواہ ، 1400 صفحات اور ہزاروں دستاویزات ہیں جو سنسکرت، اردو، فارسی اور عربی میں ہیں ان سب کو پڑھنے کے لئے وقت درکار ہے

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بابری مسجد۔رام مندر معاملہ پر آج سے سپریم کورٹ میں سنوائی شروع ہو گی ۔ آج جو سنوائی ہے اس میں عدالت کے سامنے دو الگ الگ معاملہ ہیں ۔ جس میں ایک معاملہ متنازعہ زمین کے مالکانہ حق سے متعلق ہے اور دوسری پی آئی ایل (درخواست برائے عوامی مفاد) ہے جس میں جلد سنوائی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس کشن کول کی بینچ میں متنازعہ زمین کے مالکانہ حق کو لے کر سنوائی ہوگی ۔ واضح رہے الہ آباد ہائی کورٹ نے2.67 ایکڑ زمین کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا جس میں سے ایک حصہ جہاں رام کی مورتی ہے ، ایک حصہ نرموہی اکھاڑا اور ایک حصہ سنی وقف بورڈ کو دیا گیا تھا اور تینوں ہی فریق نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہو ا ہے ۔

آج سپریم کورٹ یہ بتائے گا کہ اس معاملہ کی کس بینچ میں سنوائی ہوگی اور سنوائی کب سے شروع ہو گی ۔ کورٹ یہ طے کرے گا کہ اس معاملہ کی سنوائی کے لئے جو بینچ تشکیل دی جائے گی اس میں کون کون سے جج ہوں گے اور اس بینچ کی صدارت کو ن کرے گا۔ اس کا فیصلہ چیف جسٹس آف انڈیا ہی کرتے ہیں ۔

اگر اس میں یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ روز سنوائی کی جائے گی تو صرف منگل، بدھ اور جمعرات کو ہو گی کیونکہ سپریم کورٹ میں روزانہ سنوائی کا یہی ضابطہ ہے اور اگر الہ آباد ہائی کورٹ میں ہوئی سنوائی کو دیکھیں تو وہاں 100 دن سنوائی ہوئی تھی اور اگر سپریم کورٹ میں بھی سنوائی اسی رفتار سے ہوئی تو کم از کم 8 ماہ لگیں گے جبکہ جانکاروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ ویسے بھی بابری مسجد۔ رام مندر معاملہ میں کل 87 گواہ ہیں اور 1400 صفحات اور ہزاروں دستاویزات ہیں جو سنسکرت، اردو، فارسی اور عربی میں ہیں ان سب کو پڑھنے کے لئے وقت درکار ہے ۔

دوسری جانب ہری ناتھ نام کے وکیل کی مانگ ہے کہ اس سارے معاملہ کی جلد سنوائی کر کے اس پر فیصلہ دیا جائے کیونکہ یہ کروڑوں لوگوں کے عقیدے سے جڑا ہوا معاملہ ہے ۔

Published: 4 Jan 2019, 9:03 AM
next