ہماری حکومت آئی تو پبلک سیفٹی ایکٹ کا نام و نشان مٹا دوں گا: عمر عبداللہ

عمرعبداللہ نت کہا پولس نوجوانوں کو اٹھاتی ہے اور پھر انہیں مہینوں تک پابند سلاسل کردیا جاتا ہے۔ لیکن اب ہمارے نوجوان پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار نہیں ہوں گے، ہمارے ماں باپ پریشان نہیں ہوں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

پلوامہ: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہماری جماعت کی حکومت آئی تو چند روز کے اندر ہی پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کا نام ونشان مٹا دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت میں کشمیری نوجوان پی ایس اے کے تحت گرفتار نہیں ہوں گے۔ عمر عبداللہ نے یہ اعلان جمعرات کو یہاں نیشنل کانفرنس کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

بتادیں کہ پی ایس اے کو انسانی حقوق کے عالمی نگراں ادارے 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے ایک 'غیرقانونی قانون' قرار دیا ہے۔ اس کے تحت عدالت پیشی کے بغیر کسی بھی شخص کو کم از کم چھ ماہ تک قید کیا جاسکتا ہے۔ جموں وکشمیر میں اس قانون کا اطلاق حریت پسندوں اور آزادی حامی احتجاجی مظاہرین پر کیا جاتا ہے۔ جن پر اس ایکٹ کا اطلاق کیا جاتا ہے اُن میں سے اکثر کو کشمیر سے باہر جیلوں میں بند کیا جاتا ہے۔

عمر عبداللہ نے اپنی جماعت کے حامیوں کی زبردست تالیوں کی گونج میں کہا 'یہ بات صحیح ہے کہ ہم افسپا (آرمڑ فورسز اسپیشل پاورس ایکٹ) کا قانون مرکز سے بات کیے بغیر ہٹا نہیں سکتے۔ ٹھیک ہے ہم مرکز سے بات کریں گے۔ لیکن جو اپنے (سخت) قوانین ہیں ان کو ہم کیوں نہیں ہٹا سکتے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جس دن نیشنل کانفرنس کی اپنی حکومت بنے گی انشاءاللہ 2019 میں کچھ ہی دنوں کے اندر اندر پبلک سیفٹی ایکٹ کو قانون کے دائرے سے باہر کردوں گا، نکال دوں گا'۔

انہوں نے کہا 'میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ میں پبلک سیفٹی ایکٹ کو کاغذی طور پر مٹادوں گا، اس کا نام و نشان مٹادوں گا۔ ہمارے نوجوان پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار نہیں ہوں گے۔ نہیں ہوں گے ہمارے ماں باپ پریشان نہیں ہوں گے۔ ان نوجوانوں پولس اٹھاتی ہے اور پھر انہیں مہینوں تک پابند سلاسل کردیا جاتا ہے۔ ان چیزوں کا غلط استعمال نہیں ہوگا۔ حکومت لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے ہوتی ہے۔ لوگوں کے مشکلات کم کرنے کے لئے ہوتی ہے، بڑھانے کے لئے نہیں'۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ 'یہ لوگ فخر کے ساتھ کہتے تھے ہم نے 200 ملی ٹنٹ مارے، ہم نے 250 ملی ٹنٹ مارے۔ ارے کس کو مارا؟ یہ تو ہمارے اپنے ہی مارے جا رہے ہیں، جو نوجوان کل تک ہمارے پاس نوکری کے لئے درخواست لاتا تھا اُسی کو تو تم نے اس طرف (بندوق کی طرف) دھکیلا'۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کا بگل بجتے ہی مگرمچھ کے آنسو پھر شروع ہوگئے۔ انہوں نے کہا 'حکومت میں رہ کر محبوبہ مفتی کہتی تھیں کہ جو نوجوان مارے گئے وہ پولس تھانوں پر حملے کر رہے تھے وہ دودھ اور ٹافی لانے نہیں گئے تھے، بحیثیت وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا سی آر پی ایف اور فوج کی بندوق دکھانے کے لئے نہیں ہوتیں یہ استعمال کرنے کے لئے ہوتی ہیں اور آج یہی محبوبہ مفتی مارے گئے ملی ٹنٹوں کے گھر جاکر مگرمچھ کے آنسو بہانے جاتی ہیں۔ اگر موصوفہ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر رونے جاتی، تو میں مانتا محبوبہ مفتی دلیر لیڈر ہیں، اگر محبوبہ مفتی بھاجپا کے ساتھ اتحاد کے دوران کسی ملی ٹنٹ کے گھر جاتیں تو میں مانتا کہ وہ دلیر ہے'۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ اُس وقت محبوبہ مفتی کہتی تھیں کہ کشمیر کو بچانے والا صرف اور صرف مودی ہے، میں نے مودی جی سے جو مانگا وہ بھی ملا اور جو نہیں مانگا وہ بھی مل گیا۔ لیکن اُس کے بعد یہاں صرف بندوقیں زیادہ آئیں، فورسز زیادہ آئے، تباہی زیادہ ہوئی، لوگ زیادہ پریشان ہوئے، لوگوں کو تکلیفیں پہنچیں۔ شائد محبوبہ مفتی نے یہی کچھ مانگا ہوگا؟۔