عمرعبداللہ معاملہ: کشمیر انتظامیہ کو سپریم کورٹ کا نوٹس، 2 مارچ کو سماعت

سپریم کورٹ نے سابق وزیراعلی عمر عبداللہ کی پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت حراست کو چیلنج دینے والی عرضی پر جمعہ کو جموں و کشمیر انتظامیہ سے جواب طلب کیا

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سابق وزیراعلی عمر عبداللہ کی پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت حراست کو چیلنج دینے والی عرضی پر جمعہ کو جموں و کشمیر انتظامیہ سے جواب طلب کیا۔ جسٹس ارون مشرا اور جسٹس اندرا بینرجی کی بینچ نے عمر عبداللہ کی بہن سارا عبداللہ پائلٹ کی ’ہیبیز کارپس پیٹیشن‘ کی سماعت کرتے ہوئے جموں و کشمیر انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا۔عدالت نے معاملے کی سماعت کےلئے دو مارش کی تاریخ مقرر کی ہے۔

جسٹس مشرا نے سماعت شروع ہوتے ہی سارا کی جانب سے پیش سینئر وکیل کپِل سبل سے پوچھا کہ کیا اس سلسلے میں کوئی اور عرضی ہائی کورٹ دائر کی گئی ہے۔اس پر سبل نے کہا،’’نہیں کوئی اور عرجی نہیں دائر کی گئی ہے۔بینچ نے پھر جموں و کشمیر انتظامیہ کو نوٹس جاری کرنے کی بات کہی لیکن سبل نے کہا کہ ان کی مؤکل کے بھائی کو پہلے تو سی آر پی سی کی دفعہ 107کے تحت چار اور پانچ اگست کی آدھی رات کو حراست میں لیاگیا تھا اور اس کی چھ ماہ کی مدت ختم ہوگئی ہے۔اس کے بعد انہیں پھر سے جموں و کشمیر پی ایس اے کے تحت پانچ فروری کو حراست میں لیاگیا ہے۔

جسٹس مشرا نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے کی سماعت تین ہفتے ٹالنے کے اشارے دئے لین سچل نے کہا کہ سارا نے ’ہیبیز کارپس پیٹیشن‘ دائر کی ہے اور اسے زیادہ وقت کےلئے ٹالنا مناسب نہیں ہوگا لیکن عدالت نے کہا کہ جب اتنا وقت انتظار کیا تو کچھ اور کرلیجئے۔ اس کے بعد سماعت کےلئے دومارچ کی تاریخ مقرر کی۔

عمر عبداللہ پانچ اگست،2019سے سی آر پی سی کی دفعہ 107کے تحت حراست میں تھے۔اس قانون کے تحت عمر عبداللہ کی چھ مہینے کی احتیاطاً حراست کی مدت گزشتہ جمعرات یعنی پانچ فروری 2020 کو ختم ہونے والی تھی،لیکن حکومتنے انہیں پھر سے پی ایس اے کےتحت حراست میں لے لیاہے۔