کشمیر میں سالانہ امرناتھ یاترا کی مذہبی رسومات کا باضابطہ آغاز

سخت حفاظتی حصار میں جنوبی کشمیر میں سطح سمندر سے 13 ہزار 500 فٹ بلندی پر واقع امرناتھ گپھا میں بھگوان شیو سے منسوب برفانی عکس (شیولنگ) کی سالانہ یاترا کی مذہبی رسومات کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں اتوار کے روز سخت حفاظتی حصار میں جنوبی کشمیر میں سطح سمندر سے 13 ہزار 500 فٹ بلندی پر واقع امرناتھ گپھا میں بھگوان شیو سے منسوب برفانی عکس (شیولنگ) کی سالانہ یاترا کی مذہبی رسومات کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔

تاہم دنیا کے بیشتر ممالک میں پھیلنے والے کورونا وائرس کی وجہ سے اس بار سالانہ امرناتھ یاترا مختلف ہوگی۔ جہاں یاترا سے منسلک مذہبی رسومات حسب روایت ہی شروع ہوئی ہیں وہیں اس کے برعکس اس بار نہ صرف یاترا کے دورانیے میں کمی کی گئی ہے بلکہ یاتریوں کی محدود تعداد کو ہی یہ سالانہ یاترا نصیب ہوگی جنہیں قرنطینہ اور کورونا وائرس ٹیسٹ کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔

وہ لاکھوں افراد جو اس بار 'شری امرناتھ جی' یا 'بابا برفانی' کی یاترا پر آنے کا ارادہ رکھتے تھے، کے لئے اس بار امرناتھ یاترا سے جڑی تمام مذہبی رسومات کو دور درشن کی مختلف چینلوں پر براہ راست نشر کیا جائے گا جس کا اتوار کو ہی آغاز بھی کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اتوار کو پہلگام میں گرو پورونما یا ویاسا پورونما کے موقع پر کی جانے والی پوجا کے ساتھ سالانہ امرناتھ یاترا کا تو آغاز ہوگیا ہے لیکن یاتریوں کو پوتر گپھا میں حاضری دینے کے لئے 23 جولائی تک انتظار کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ یاترا کی مذہبی رسومات کے آغاز کے پہلے دن لیفٹیننٹ گورنر گریش چندرا مرمو نے نہ صرف خصوصی پوجا میں شرکت کی بلکہ پوتر امرناتھ گپھا میں حاضری بھی دی جہاں انہوں نے وبا سے نجات اور جموں وکشمیر میں مکمل امن وامان کے لئے دعا مانگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر جو اپنے افراد خانہ اور کچھ سینئر سرکاری افسران کے ہمراہ پہلگام پہنچے، نے سالانہ امرناتھ یاترا کی رسومات کو دور درشن پر براہ راست نشر کرنے کے شری امرناتھ شرائین بورڈ، جس کے وہ چیئرمین بھی ہیں، کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

پہلگام میں چھڑی مبارک کی پوجا میں حصہ لینے والے ایک عقیدت نے بتایا: 'ہم نے کورونا وائرس سے نجات کے لئے دعا مانگی ہے'۔ ان کا مزید کہنا تھا: 'کشمیر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں مختلف مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ یہاں جیسا بھائی چارہ آپ کو پوری دنیا میں اور کہیں نہیں ملے گا'۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کورونا وائرس کے پیش نظر اس سال امرناتھ یاترا صرف 14 دنوں پر محیط ہوگی اور سرکاری طور پر 23 جولائی کو شروع ہو کر 3 اگست کو اپنے اختتام کو پہنچے گی۔

سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ سالانہ امرناتھ یاترا کے لئے سیکورٹی کے معقول انتظامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یاترا کے راستوں پر معقول تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات کئے جائیں گے نیز ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جائے گا۔ چیف سکریٹری بی وی آر سبھرا منیم کے مطابق موجودہ حالات کے پیش نظر جموں سے صرف 500 یاتریوں کو ہر دن کشمیر آنے کی اجازت ہوگی۔ امسال بابا امرناتھ آرتی دور درشن سے براہ راست ٹیلی کاسٹ کی جائے گی۔

سرکاری ترجمان کے مطابق چیف سکریٹری نے ہفتے کے روز شری امرناتھ جی یاترا کی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ کورونا کے پیش نظر سٹیٹ ایگزیکٹو کمیٹی جو کہ آفات سماوی ایکٹ کے تحت تشکیل دی گئی ہے، نے ایس او پیز جاری کئے ہیں جو جموں وکشمیر کے سفر پر آنے والے تمام افراد کے لئے صد فیصد آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کرنا لازمی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں وارد ہونے و الے تمام افراد کے نمونے لینے، ان کا ٹیسٹ کرنے اور ٹیسٹ رپورٹ منفی ثابت ہونے تک قرنطین میں رکھا جائے گا۔

چیف سیکرٹری نے کہا کہ اس سے قبل یاتریوں کے لئے استعمال کی جانے والے کیمپنگ سہولیات بالخصوص داخلی مقامات پر ایسی سہولیات کو فی الوقت قرنطین مراکز کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے جموں وکشمیر میں داخل ہونے والے افراد بشمول یاتریوں کی ٹیسٹنگ کے لئے جاری ایس او پیز کا اطلاق یاتریوں پر بھی ہوگا۔ اس کے علاوہ ان عارضی قیام گاہوں میں سماجی دوری بنائے رکھنے اور وقواعد و ضوابط پر مزید بوجھ پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام حالات کے پیش نظر امسال یاترا کی اجازت محدود طریقہ پر دی جارہی ہے تاکہ کورونا وبا کے لئے ایس او پیز پر یاترا کے دوران بھی سختی سے عمل پیرا رہا جاسکے۔ سرکاری ترجمان کے مطابق ادویات، دیگر استعمال کی اشیاء، سلیپنگ بیگ، پی پی ای کٹس اور ماسکس کا وافر سٹاک ذخیرہ کیا گیا ہے اور یاترا ڈیوٹی پر تعینات طبی اور نیم طبی عملے کو فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بال تل راستے پر دو بیس ہسپتال قائم کئے جارہے ہیں۔

چیف سکریٹری نے یاترا کے سبب طبی نظام پر اضافی بوجھ کے بارے میں بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے 10 اضلاع میں سے 9 اضلاع ریڈ زون علاقے قرار دیے گئے ہیں اور پورا طبی نظام اس چیلنج کا مقابلہ کرنے میں مصروف العمل ہے۔ قابل ذکر ہے کہ حکومت نے سال گذشتہ ماہ اگست کے اوائل میں ہی سالانہ امر ناتھ جی یاترا کو اس وقت معطل کیا تھا جب جموں و کشمیر کو خصوصی اختیارات عطا کرنے والے دفعات 370 اور 35 اے کی منسوخی کے ساتھ ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کیا گیا تھا۔

    next