اوڈیشہ: سمبل پور میں پولیس نے 12 وکیلوں کو گرفتار کیا، 29 کے لائسنس معطل

عدالت کے اطراف میں ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی اور 17 پلاٹون پولیس فورس کو تعینات کیا گیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سنبل پور: اوڈیشہ کے سمبل پور میں ہائی کورٹ کی ڈویژنل بنچ کے قیام کے مطالبے پر وکلاء کا احتجاج پیر کے روز پرتشدد ہو گیا جس میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 12 وکیلوں کو گرفتار کر لیا۔ عدالت کے اطراف میں ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی اور 17 پلاٹون پولیس فورس کو تعینات کیا گیا تھا۔ احتجاج کے دوران ڈسٹرکٹ جج کو اپنے کمرہ عدالت سے گھسیٹا گیا اور مشتعل وکلاء نے کمرہ عدالت میں توڑ پھوڑ کی۔

سنبل پور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بی گنگادھر نے کہا کہ گرفتاریاں پیر کی رات کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر کی گئی ہیں اور نو گرفتار وکلاء کو مقامی عدالت کی طرف سے ضمانت کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور ٹی وی کی خبروں کی ویڈیو کلپس کی جانچ کے بعد پیر کے روز ہوئے تشدد کے سلسلے میں مزید گرفتاریاں کی جائیں گی۔


دریں اثناء، ضلع انتظامیہ نے کچہری چوک میں سی آر پی سی کی دفعہ 144 نافذ کر دی ہے اور وارننگ جاری کی ہے کہ اگر کسی نے امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے 17 پلاٹون پولیس فورس تعینات کی گئی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید نفری طلب کی جائے گی۔

واضح رہے کہ پیر کے روز سمبل پور عدالت میں اس وقت افراتفری مچ گئی جب عوام، وکلاء، سول سوسائٹی اور یہاں تک کہ خواجہ سراؤں نے پولیس فورس سے ہاتھا پائی شروع کر دی۔ یہاں تک کہ ڈسٹرکٹ جج مانس رنجن باریک کو بھی زبردستی اپنے چیمبر سے گھسیٹا گیا۔ عوام اور وکلاء کی بڑی تعداد ضلع جج رنجن کے چیمبر میں داخل ہوئی اور کمرہ عدالت میں توڑ پھوڑ کی۔


دوسری جانب، ہائی کورٹ نے اس واقعہ کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے اور اڈیشہ کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) اور شمالی علاقہ کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بدھ کے روز ذاتی طور پر حاضر ہونے کو کہا ہے۔ کورٹ نے پہلے خبردار کیا تھا کہ اگر وکلاء احتجاج جاری رکھتے ہیں اور عدالتوں کے کام کام مفلوج ہوتے ہیں تو مشتعل وکلاء کے لائسنس منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔

اس کے باوجود وکلاء اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے اور پیر کے روز شدید احتجاج شروع کر دیا۔ پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی کے باوجود مظاہرین نے ججوں کو عدالت کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ہڑتالی وکلاء کے ذریعہ توڑ پھوڑ کے واقعہ پر سخت اعتراض کرتے ہوئے بار کونسل آف انڈیا نے پیر کے روز 29 وکلاء کے لائسنس فوری طور پر 18 ماہ کے لیے معطل کر دیئے اور سنبل پور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے تمام ممبران کو اگلے احکامات تک معطل کر دیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔