اوڈیشہ: پارٹی مخالف سرگرمیوں کے باعث ’بیجو جنتا دل‘ نے 2 اراکین اسمبلی کو پارٹی سے کیا معطل

بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے صدر نوین پٹنائک نے پارٹی مخالف سرگرمیوں کے باعث 2 اراکین اسمبلی اروند مہاپاترا اور سناتن مہاکوڈ کو پارٹی سے معطل کر دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے صدر نوین پٹنائک نے جمعرات (15 جنوری) کو اپنے 2 اراکین اسمبلی کو پارٹی سے معطل کر دیا ہے۔ پارٹی سے معطل کیے گئے اراکین اسمبلی کے نام اروند مہاپاترا اور سناتن مہاکوڈ ہیں۔ ان دونوں لیڈران کے خلاف یہ کارروائی پارٹی کے صدر نوین پٹنائک کے ذریعہ جاری آفیشیل ہدایت کے ذریعہ کی گئی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق دونوں اراکین اسملبی کے خلاف گزشتہ کافی وقت سے مسلسل شکایتیں موصول ہو رہی تھیں۔ پارٹی مخالف سرگرمیوں کے باعث دونوں کو پارٹی سے باہر کا راستہ دکھایا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پارٹی لائن کی خلاف ورزی اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کے الزامات کے باعث دونوں اراکین اسمبلی کے خلاف ’بی جے ڈی‘ کی جانب سے کارروائی کی گئی ہے۔ پارٹی نے اس حکم کی ایک کاپی اوڈیشہ اسمبلی کے اسپیکر کو بھیج دی ہے، تاکہ قانون سازی کے عمل کے تحت اس معطلی کی باضابطہ معلومات درج کی جا سکیں۔ ساتھ ہی دونوں اراکین اسمبلی کو بھی اس حکم کی ایک کاپی بھیج دی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں پارٹی تنظیم کا جائزہ مزید سخت کیا جا سکتا ہے۔


واضح رہے کہ دونوں اراکین اسمبلی کو کئی بار وارننگ دینے کے باوجود رویے میں اصلاح نہ لانے پر قیادت نے یہ سخت فیصلہ لیا ہے۔ معطلی کے ساتھ ہی دونوں اراکین اسمبلی کو پارٹی کے تمام عہدوں اور ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں دونوں لیڈران کی بیان بازی اور سیاسی سرگرمیاں پارٹی لائن سے الگ چل رہی تھیں، جس کی وجہ سے تنظیم کے شبیہ کو کافی نقصان پہنچ رہا تھا۔ اسے سنجیدگی سے لیتے ہوئے پارٹی صدر نوین پٹنائک نے تادیبی کارروائی کو منظوری دی۔

قابل ذکر ہے کہ دونوں اراکین کی معطلی بیجو جنتا دل کے اندر ایک اہم سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور سے ایسے وقت میں جب پارٹی تنظیمی مضبوطی اور داخلی اتحاد پر زور دے رہی ہے۔ بی جے ڈی قیادت نے واضح کیا ہے کہ پارٹی میں نضم و ضبط سب سے اہم ہے اور کسی بھی سطح پر بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس کارروائی کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے، دوسری جانب اپوزیشن نے بھی اس فیصلے کے متعلق حکومت اور حکمراں پارٹی پر سوال اٹھانا شروع کر دیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔