بے روزگاری کے خلاف این ایس یو آئی نے کیا جوتے پالش کرکے احتجاج

این ایس یو آئی کے سینکڑوں کارکنان نے جوتے پالش کیے اور بی جے پی حکومت کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی کہ ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج ملک کا نوجوان جوتے پالش کرنے کے لئے مجبور ہے۔

تصویر پریس ریلیز
تصویر پریس ریلیز
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: ملک میں بڑھتی بے روزگاری کے خلاف قومی راجدھانی دہلی میں این ایس یو آئی (نیشنل اسٹوڈنٹ یونین آف انڈیا) نے دلچسپ انداز میں جوتے پالش کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ این ایس یو آئی کے کارکنان منگل کے روز سوامی ویویکانند کے یومِ پیدائش کے موقع پر شاستری بھون کے سامنے جمع ہوئے اور جوتے پالش کر کے صدائے احتجاج بلند کی۔

ایک بیان کے مطابق این ایس یو آئی کے قومی سکریٹری ونود جھاکر اور ریاستی صدر اکشے لاکرا کی قیادت میں سینکڑوں کارکنان نے جوتے پالش کیے اور بی جے پی حکومت کو آئینہ دکھاتے ہوئے یہ احساس دلایا کہ ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج ملک کا نوجوان جوتے پالش کرنے کے لئے مجبور ہے۔

این ایس یو آئی کے قومی صدر نیرج کندن نے اس موقع پر کہا کہ ہندوستان میں گزشتہ 45 سالوں میں سب سے زیادہ بے روزگاری ہے۔ سی ایم آئی ای کے مطابق نومبر میں بے روزگاروں کی تعداد 2.75 کروڑ تھی جو دسمبر میں بڑھ کر 3.87 کروڑ ہو گئی۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ہندوستان میں ہر مہینے لاکھوں لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں اور اس سب کی ذمہ دار مودی حکومت اور اس کی غلط پالیسیاں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، ’’سوامی ویویکانند کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی ترقی ہی ملک کی ترقی ہے لیکن آج ملک کا نوجوان بےروزگاری کے سبب جوتے پالش کرنے اور پکوڑے تلنے پر مجبور ہے۔ اس لئے آج ہم نے جوتے پالش کر کے مرکزی حکومت کو بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر آئینہ دکھانے کا کام کیا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next