پاکستان کی حرکت سے ہندوستان برہم، ڈوبھال نے ایس سی او چوٹی میٹنگ کا بائیکاٹ کیا

روس نے واضح طور پر کہا ہےکہ اس نے پاکستان کے اقدامات کی قطعی حمایت نہیں کی اور امید کی ہے کہ پاکستان کے اس اقدام سے ایس سی او سربراہ اجلاس میں ہندوستان کی شرکت متاثر نہیں ہوگی۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے روس کی صدارت میں ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے قومی سلامتی کے مشیروں کی چوٹی میٹنگ میں پاکستان کے ذریعہ ہندوستانی زمین کو ظاہر کرنے والے نقشہ دکھائے جانے پر سخت مخالفت ظاہر کرتے ہوئے آج میٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے یہاں صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ روسی قومی سلامتی کے مشیر کی صدارت میں منعقد اس میٹنگ میں پاکستانی قومی سلامتی کے مشیر نے بدنیتی سے وہ تصوراتی نقشہ پیش کیا جو اس نے کچھ دن پہلے سرکاری طور پر جاری کیا ہے۔ یہ میزبان کی جانب سے جاری مشورے کی توہین اور میٹنگ کے ضابطوں کی خلاف ورزی تھی۔ ہندوستانی فریق اسی وقت میزبان سے مشورہ کرکے میٹنگ سے اٹھ کر نکل گیا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان فریق کی میٹنگ کو گمراہ کرنے والی باتیں کرتا رہا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی اس حرکت سے روس بھی حیران رہ گیا۔ ذرائع کے مطابق نقشے میں ہندوستانی زمین کو پاکستان کا علاقہ دکھایا جانا ایس سی او اعلامیہ کی سریع خلاف ورزی ہے اور ایس سی او رکن ممالک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے ضابطوں کے منافی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ہندوستانی فریق کی جانب سے پاکستانی فریق کے غیر قانونی نقشہ دکھانے پر سخت اعتراض کا اظہار کیا گیا۔ روسی فریق نے بھی پاکستانی فریق کو ایسا کرنے سے روکنے کی پوری کوشش کی۔ روس نے واضح طور پر کہا کہ اس نے پاکستان کے اقدامات کی قطعی حمایت نہیں کی اور امید کی ہے کہ پاکستان کے اس اقدام سے ایس سی او سربراہ اجلاس میں ہندوستان کی شرکت متاثر نہیں ہوگی اور مسٹر ڈوبھال اور روس کے قومی سلامتی کمیشن کے سکریٹری، نکولائی پٹروشیف کے مابین مضبوط دوستی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مسٹر پیٹروشیف نے اجلاس میں آنے پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے ذاتی طور پر اظہار تشکر کیا۔ مسٹر پیٹروشیف نے امید ظاہر کی کہ مسٹر ڈوبھال دوسرے پروگراموں میں حصہ لیں گے۔

next