بابری مسجد پر اب بدھ مت نے دعویٰ ٹھوکا

عرضی گزار کے مطابق کھدائی میں بدھ مت سے متعلق کھمبے، استوپ اور دیواریں پائی گئی تھیں جو دیکھنے میں بنارس میں موجود کھمبوں کی طرح ہی ہیں۔

By قومی آوازبیورو

سپریم کورٹ میں بابری مسجد تنازعہ پر آج سماعت کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ اس سے قبل ہی مسلمانوں اور ہندؤں کے بعد اب بدھ مذہب سے وابستہ ایک فرد نے اپنا دعویٰ سپریم کورٹ میں پیش کر دیا ہے۔ اس حوالہ سے بدھ شخص نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر دی ہے۔

انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں دعویٰ پیش کرنے والا بدھ شخص ونیت کمار موریا ایودھیا کے محلہ قاضیان کا رہائشی ہے ۔ عرضی گزار کا دعویٰ ہے کہ ’’ایودھیا میں جس مقام پر بابری مسجد تعمیر کی گئی تھی وہاں پہلے ایک بودھ یادگارموجود تھی ۔ جس کا ثبوت محکمہ آثار قدیمہ کو بھی کھدائی کے دوران ملا تھا۔ ‘‘ عرضی گزار کے مطابق کھدائی میں بدھ مت سے متعلق کھمبے، استوپ اور دیواریں پائی گئی تھیں جو دیکھنے میں بنارس میں موجود کھمبوں کی طرح ہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ زمین پر بابری مسجد سے قبل ایک بدھ وہار موجود تھا۔ ونیت کمار کو امید ہے کہ انہیں سپریم کورٹ سے انصاف ملے گا۔

وہیں دوسری طرف اس معاملہ میں وی ایچ پی کے شرد شرما کا کہنا ہے ’’ پوری دنیا جانتی ہے کہ اس مقام پر بھگوان شری رام کا جنم ہوا تھا اور وہاں ان کا مندر موجود تھا جسے بیرونی حملہ ور نے توڑ دیا تھا۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ نجی مفاد کے لئے اس معاملہ کو طول دیا جا رہا ہے۔ بدھ مت کے دعوے پر ان کا کہنا ہے کہ ملک میں ہر کسی کو اپنی بات کہنے کا حق ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ فیصلہ ہمارے حق میں ہی آئے گا۔‘‘