اب 10 منٹ میں نہیں ملے گا آن لائن سامان، کمپنیوں نے مرکزی حکومت کی مداخلت کے بعد کیا فیصلہ!

مرکزی وزیر منسکھ منڈاویا نے بلنکٹ، زیپٹو، سویگی اور زومیٹو کے افسران سے ڈیلیوری کے لیے مدت کار ہٹانے پر بات کی۔ سبھی کمپنی نے حکومت کو یقین دلایا ہے کہ وہ اشتہارات سے ڈیلیوری کی مدت ہٹا دیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مرکزی حکومت نے آن لائن سامانوں کی ڈیلیوری کرنے والے افراد کی سیکورٹی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ وزارت محنت نے 10 منٹ کے اندر سامانوں کی ڈیلیوری کرنے پر روک لگا دی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ نے ملک کی اہم آن لائن ڈیلیوری کرنے والی کمپنیوں، مثلاً سویگی اور زومیٹو وغیرہ سے بات کی ہے۔

اس معاملہ میں مرکزی وزیر منسکھ منڈاویا نے بلنکٹ، زیپٹو، سویگی اور زومیٹو کے افسران سے بات کی تھی اور ڈیلیوری کے لیے مدت کار ہٹانے کی بات کہی تھی۔ سبھی کمپنیوں نے حکومت کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے برانڈ کے اشتہارات اور سوشل میڈیا سے ڈیلیوری کی مدت کار ہٹائیں گے۔ اس فیصلہ کے بعد بلنکٹ نے اپنے سبھی اشتہار سے ’10 منٹ میں ڈیلیوری‘ کا عہد ہٹا دیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 25 دسمبر اور 31 دسمبر کو گگ ورکرس کی بڑی ہڑتال ہوئی تھی، جس کے بعد سے ہی ان کی سیکورٹی کو لے کر بات چیت نے رفتار پکڑی تھی۔ اب حکومت نے اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے یہ بڑا قدم اٹھایا۔ دراصل 10 منٹ میں ڈیلیوری کی کوشش میں کئی حادثات کی خبریں سامنے آ چکی ہیں۔ ڈیلیوری پارٹنرس سامان جلدی پہنچانے کی کوشش میں گاڑی تیز رفتاری کے ساتھ چلاتے ہیں، جس سے حادثہ سرزد ہو جاتا ہے۔ اب ’10 منٹ‘ جیسی پابندی نہ ہونے سے حادثات میں یقینی طور پر کمی دیکھنے کو ملے گی۔

بتایا جا رہا ہے کہ لگاتار مداخلت کے بعد مرکزی وزیر محنت منسکھ منڈاویا نے بڑے ڈیلیوری ایگریگیٹرس کو ضروری ’10 منٹ ڈیلیوری‘ والی ڈیڈلائن ہٹانے کے لیے راضی کر لیا ہے۔ ڈیلیوری ٹائم لائن سے متعلق فکروں کو دور کرنے کے لیے بلنکٹ، زومیٹو، زیپٹو اور سویگی جیسے بڑے پلیٹ فارمز کے ساتھ میٹنگ ہوئی۔ بلنکٹ نے پیش قدمی کرتے ہوئے اس ہدایت پر عمل شروع کیا اور برانڈنگ سے ’10 منٹ‘ والی ڈیلیوری کا وعدہ ہٹا دیا۔ آئندہ دنوں میں دوسری کمپنیاں بھی ایسا کرتی ہوئی دکھائی دیں گی۔ اس قدم کا مقصد گگ ورکرس کے لیے زیادہ محفوظ حالات، سیکورٹی اور کام کرنے کا بہتر ماحول فراہم کرنا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔