کشمیر: عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی پر سرکاری بنگلے چھینے جانے کا خطرہ!

آرٹیکل 370 کے خاتمہ کے بعد اب جموں و کشمیر کے سابق وزراء اعلی سے سرکاری بنگلے چھن سکتے ہیں اور یہ وہ بنگلے ہیں جن کی تجدید نو پر کروڑوں روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مرکزی حکومت نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا جو فیصلہ لیا ہے اس سے جموں و کشمیر کے سیاسی اور سماجی حالات میں کیا تبدیلی آئے گی وہ تو آنے والے دن ہی بتائیں گے لیکن یہ ضرور طے ہے کہ وہاں کے سیاست دانوں کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ اس تبدیلی میں یہ بہت ممکن ہے کہ جو عیش و آرام وہاں کے سیاست داں اٹھا رہے تھے وہ شائد آگے نہ اٹھا پائیں۔ جموں و کشمیر کے جتنے بھی سابق وزراء اعلی ہیں ان کے پاس جو سرکاری رہاش گاہ ہے وہ ان سے لی جا سکتی ہیں۔

آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر کے سابق وزراء اعلی کو اپنی رہائش گاہیں خالی کرنی پڑ سکتی ہیں کیونکہ ہندوستانی قانون کے مطابق جو بھی وزیر اعلی سابق ہو جاتا ہے اس کو اپنی سرکاری رہائش گاہ خالی کرنی پڑتی ہے۔

انگریزی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق عمرعبد اللہ اور محبوبہ مفتی سمیت سبھی سابق وزراء اعلی شری نگر کے گپکر روڈ پر بنے اپنے سرکاری بنگلوں میں رہتے ہیں اور ان سے کوئی بھی کرایہ نہیں لیا جاتا ہے۔ ان وزراء اعلی نے ان رہائش گاہوں کی تجدید نو پر کروڑوں روپے خرچ کیے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی نے اپنے اپنے بنگلوں کو جدید بنوانے میں 50 کروڑ روپے خرچ کیے ہوئے ہیں۔

محبوبہ مفتی کے والد مفتی سعید نے بھی اپنی سرکاری رہائش گاہ کی تجدید نو پر کروڑوں روپے خرچ کیے تھے۔ تجدید نو پر جو اخراجات آتے ہیں وہ سرکار ہی برداشت کرتی ہے۔ خبروں کے مطابق عمر عبد اللہ اور محبوبہ کے گھروں پر جو لوگ کام کرتے ہیں ان کی تنخواہیں بھی کشمیر حکومت سے ہی آتی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر ان لوگوں کا پریشان ہونا لازمی ہے، اب ان کو یہ بھی فکر ہوگی کہ ان کی سلامتی پر بھی سوال کھڑے ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کانگریس کے رہنما اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد بھی ایسا سرکاری بنگلہ لینے کے حقدار ہیں لیکن انہوں نے کوئی بنگلہ نہیں لیا ہوا ہے، وہ واحد سابق وزیر اعلی ہیں جنہوں نے سرکاری بنگلہ نہیں لیا ہوا ہے۔

Published: 7 Aug 2019, 3:10 PM