کورونا وائرس: مودی حکومت اب اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا عام لوگوں کے سر پھوڑے گی!

کورونا وبا کے خلاف مودی حکومت کے بڑبولے پن کی ایک ایک کر کے قلعی کھلنی شروع ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انفیکشن کا پھیلاؤ بڑھنے کے لیے حکومت نے عوام کو ہی قصوروار ٹھہرانے کی پوری تیاری کر لی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اوما کانت لکھیڑا

کورونا وائرس انفیکشن سے مقابلے کو لے کر مرکزی حکومت کی بڑبولی تیاریوں کی ایک ایک کر کے قلعی کھلی تو اب ساری خامیوں کے لیے عوام کو ہی قصوروار بنانے کی تیاریوں پر سارا فوکس ہے۔ کئی بڑے شہروں، ریاستوں میں مہاجر مزدوروں کو ان کے حال پر چھوڑنے کا معاملہ ہو یا زندہ رہنے کی ان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کی گارنٹی کا مسئلہ، حکومتی ناکامیاں ظاہر ہو گئی ہیں۔ لاک ڈاؤن سے پہلے ایک بڑی اور بے سہارا آبادی کے بارے میں ذرا بھی نہیں سوچا گیا۔

کورونا سے اب تک حقیقی معنوں میں کتنے لوگ مارے گئے، ابھی اس کے دیے گئے اعداد و شمار پر ماہرین کو شبہ ہے۔ اس درمیان وزارت صحت کے ذریعہ جاری بیان میں انفیکشن والے مریضوں اور مہلوکین کی تعداد میں اچانک ہوئے کئی گنا اضافہ کے لیے عام لوگوں کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں شراب کے سرکاری ٹھیکوں کی دکانوں کو کھولنے سے جس طرح ایک ایک دکان پر سینکڑوں لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہونے کا راستہ کھل گیا اور بھگدڑ کو فروغ دیا گیا، اس سے سبھی دعووں کی دھجیاں اڑ گئی ہیں۔

پہلی بار مودی حکومت کو احساس ہوا ہے کہ لاک ڈاؤن کو کورونا کا علاج بتانے کی تکڑم محض 40 دن میں ہی ناکام ہو گئی۔ لاک ڈاؤن کے ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد اب حکومت خود ہی ایسے سوالوں سے گھری رہی ہے جن کا اطمینان بخش جواب اس کے پاس نہیں ہے۔ پی ایم مودی کے کئی حامی بھی اب کھل کر کہہ رہے ہیں کہ اتنے بڑے مسئلہ اور خطرناک وبا کا علاج صرف لاک ڈاؤن کو ماننا ہی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی۔

جب وبا کا انفیکشن کچھ چنندہ جگہوں تک ہی تھا تب مرکزی حکومت کے وزراء، وزارت صحت کو یہی زہر اور غلط فہمی پھیلانے کا کام سونپا گیا تھا کہ تبلیغی جماعت کی وجہ سے ملک کورونا کی زد میں آیا۔ یہ عمل دو ہفتہ سے زیادہ چلایا گیا۔ وزارت صحت کی جانب سے روزانہ پریس بریفنگ میں جو اعداد و شمار جاری کیے جاتے رہے کہ کس ریاست میں کہاں جماعتی گئے اور کورونا کا اثر بڑھا، اس پر عمل بی جے پی کی ریاستی حکومت نے بھی کیا۔

انفیکشن کے معاملوں اور صحت کے شعبہ میں دہائیوں سے کام کرنے والے ماہر چین سمیت دنیا کے باقی ممالک کے اس وبا سے لڑنے کے تجربات کی بنیاد پر عام لوگوں اور ممکنہ انفیکشن والے مریضوں کے ریپڈ ٹیسٹ نہ ہونے پر سوال کھڑے کر رہے تھے۔ یہ ایشو اپوزیشن پارٹیاں بھی اٹھا رہی ہیں، لیکن ایسے سخت سوالوں کے جواب حکومت کے پاس نہیں تھے کہ اس کی تیاریاں کمزور پچ پر تھیں۔

کئی ماہرین ہی نہیں بلکہ محکمہ صحت میں کئی لوگ ہیں جو اعتراف کر رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں بنیادی صحت کا کوئی ڈھانچہ نہیں ہونے کی وجہ سے شروعات میں ہی بڑی تعداد م یں مریضوں کو لوٹا دیا گیا کہ ان میں کورونا کی کوئی علامت نہیں ہے۔ ملک میں دوسری طرف سرکاری نظام کا سب سے کمزور حصہ ملک میں وینٹی لیٹرس کی زبردست کمی کی تھی۔ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ پی ایم مودی کی پہلی ویڈیو کانفرنسنگ میں جب سبھی ریاستوں سے وینٹی لیٹرس کی طلب زور و شور سے اٹھی تو پہلی بار ثابت ہوا کہ ہم اس طرح کی وبا سے نمٹنے میں کہیں بھی نہیں ٹک رہے۔

کورونا وبا کے بہانے ہندوستان کی معیشت کی انہی ناکامیوں کو لے کر کئی ماہرین نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ جو دو ماہ میں ہوا ہے وہ تو محض ایک تنبیہ کی آہٹ بھر ہے۔ آگے سنبھلے نہیں تو مزید خطرناک حالات ہوں گے۔ گجرات ودیاپیٹھ کی چانسلر ایلا آر بھٹ کہتی ہیں کہ "ایسے حالات سے نمٹنے میں ہماری خستہ حال معیشت اور صحت خدمات کے کھوکھلے پن کے ساتھ یہ کمزوری بھی ظاہر ہوئی ہے کہ اس آڑ میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی گئی، جس کا خمیازہ سماج کے کمزور لوگوں کو بھگتنا پڑا۔"

کرناٹک، گجرات، مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں ڈیڑھ ماہ سے بغیر کام اور روزگار کے خالی بیٹھے مہاجر مزدوروں کا صبر ٹوٹ چکا ہے۔ ڈیڑھ ماہ تک زیادہ تر لوگوں کی خیریت ہی نہیں لی گئی۔ ہزاروں مزدور جب پیدل ہی سینکڑوں کلو میٹر کا سفر کر کے اپنے گھروں کو جانے کے لیے مجبور ہوئے تو بھی مرکز اور ریاستی حکومتوں کا من نہیں پسیجا۔ کرناٹک حکومت کو جب لگا کہ ان کے یہاں سے عمارتوں کی تعمیر میں لگے مزدوروں کی ہزاروں کی تعداد میں ہجرت سے بلڈر لابی کو دقت ہوگی، تو کرناٹک سے مغربی بنگال جانے والی خصوصی ٹرین گاڑیوں کو مرکزی حکومت پر دباؤ بنا کر آخری لمحات میں رد کروا دیا گیا۔

اتر پردیش کانگریس کے سینئر لیڈر اور کئی بار رکن اسمبلی رہ چکے انوگرہ نارائن سنگھ کہتے ہیں کہ "مرکز کی مودی حکومت کے دعووں کے باوجود یو پی کے کئی شہروں میں پہنچنے والے مہاجر مزدوروں سے ریلوے کرایہ وصول کیا گیا۔ جو حکومت بھوکے پیاسے مزدوروں کو اپنے گھر نہیں پہنچا سکتی، اس حکومت کو مزدور مفادات کی دُہائی دینے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔"

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔