کنڈوم پر تبصرہ کرنے پر آئی اے ایس افسر کو نوٹس، خواتین کمیشن نے 7 دن میں مانگا جواب

پٹنہ میں ایک خاتون آئی اے ایس افسر کنڈوم پر تبصرہ کرتے ہوئے بری طرح پھنس گئی  ہیں کیونکہ ان کے تبصرے پر خواتین کے قومی کمیشن نے ان کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

بہار آئی اے ایس
بہار آئی اے ایس
user

قومی آوازبیورو

پٹنہ: بہار کے اسکول میں طالبہ کے سینٹری پیڈ کے تعلق سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں خاتون آئی اے ایس افسر کے مضحکہ خیز جواب کی بڑے پیمانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ اس معاملہ میں خاتون کمیشن نے بھی نوٹس لیتے ہوئے افسر سے جواب طلب کیا ہے۔

نیوز پورٹل اے بی پی پر شائع خبر کے مطابق  قومی خواتین کمیشن نے پٹنہ میں پیش آئے اس  واقعہ کا نوٹس لیا ہے جس میں  آئی اے ایس آفیسر ہرجوت کور بھمرا، بہار مہیلا بال وکاس نگم کی ایم ڈی نے ایک اسکول کی طالبہ  کے سینیٹری پیڈ مفت فراہم کرنے پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ تم لوگوں کو ہر چیز مفت چاہئے ، کل کو تمیں جینس اور پھر کنڈوم بھی چاہئے۔ قومی کمیشن برائے خواتین نے ان ریمارکس پر تحریری وضاحت طلب کی ہے۔ اس کے لیے آئی اے ایس افسر کو سات دن کے اندر جواب دینا ہوگا۔ 

بہار میں ایک اسکول کی طالبہ نے آئی اے ایس ہرجوت کور سے ایک سادہ سا سوال کیا۔ لڑکی نے سوال کیا کہ جب حکومت سائیکل، کپڑے دیتی ہے تو ہم لڑکیاں "کیا حکومت 20-30 روپے کے سینیٹری پیڈ دے سکتی ہے؟" ان کے سوال پر ہرجوت کور نے کہا کہ آج آپ کہہ رہے ہیں کہ حکومت سینیٹری نیپکن دے، تو کل آپ کہیں گے کہ حکومت جینز بھی دے سکتی ہے پھر خوبصورت جوتے کیوں نہیں دے سکتی۔ آئی اے ایس افسر ہرجوت کور نے مزید کہا، "آپ کو آخر کار امید ہوگی کہ حکومت آپ کو خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے، کنڈوم بھی دے گی۔"


اس نے لڑکیوں سے پوچھا "آپ کو حکومت سے کچھ لینے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ سوچنے کا طریقہ غلط ہے۔ خود سے کچھ کرنے کا سوچو، خود سے کچھ پیسہ کمانے کا طریقہ سیکھو، خود کو سہارا دو۔"  بتادیں کہ اس ورکشاپ میں سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والی نویں اور دسویں جماعت کی لڑکیاں شامل تھیں۔

جب ایک طالب علم نے کہا کہ اس کے اسکول میں لڑکیوں کا بیت الخلا ٹوٹا ہوا ہے اور اکثر لڑکے اس کو توڑتے ہیں تو افسر نے جواب دیا، "مجھے بتائیں، کیا آپ کے گھر میں الگ الگ بیت الخلاء ہیں؟ اگر آپ نے مختلف جگہوں پر بہت ساری چیزیں مانگیں تو؟ تو، یہ کیسے کام کرے گا؟" ہرجوت کور نے لڑکیوں سے کہا "آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ آپ خود کو مستقبل میں کہاں دیکھنا چاہتی ہیں۔ کیا آپ وہیں بیٹھنا چاہتی ہیں جہاں آج تم ہو یا اس طرف بیٹھنا چاہتی  ہو جہاں میں آج بیٹھی ہوں؟"

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔