کتابوں کے حوالے سے لکھنا غلط نہیں، ہتک عزت کا مقدمہ حیرت انگیز: ششی تھرور

ششی تھرور نے کہا کہ مجھے عدالت پر پورا اعتماد ہے اور امید ہے کہ مقدمہ خارج ہوجائے گا۔ نیز اگر عدالت سے نوٹس ملتا ہے تو وہ اس پرقانونی جنگ لڑنے کے لئے تیار ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

کانگریس لیڈر ششی تھرور نے آج وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف بیان دینے پر مجرمانہ کیس درج کیے جانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مصنفین کی آزادی پر حملہ ہے اور امید ہے کہ یہ کیس خارج کردیا جائے گا۔

ششی تھرور نے 2012 میں شایع ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے آر ایس ایس اور وزیر اعظم کے درمیان تعلقات کا جو ذکر کیا ہے وہ کاررواں میگزین میں آر ایس ایس کے ایک رکن کے حوالے سے شائع ہوچکا ہے۔ جب 2012 میں آرٹیکل لکھنے والے کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر نہیں کیا گیا تو اب کیوں۔ ششی تھرور کلکتہ میں کانگریس کے مینو فیسٹو آرگنائزیشن کمیٹی کی میٹنگ میں شریک ہونے کیلئے آئے تھے۔

ششی تھرورنے کہا کہ مجھے عدالت پر پورا اعتماد ہے اور امید ہے کہ مقدمہ خارج ہوجائے گا۔ نیز اگر عدالت سے نوٹس ملتا ہے تو وہ اس پرقانونی جنگ لڑنے کے لئے تیار ہیں۔

خیال رہے کہ ششی تھرور کا گزشتہ دنوں ایک بیان شائع ہوا تھا جس میں ا نہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم شیولنگ پر بچھو کی طرح بیٹھے ہوئے ہیں جسے ہٹانا بھی مشکل ہے۔ اس بیان پر بی جے پی لیڈر راجیو ببر نے دہلی کے پٹیالہ کورٹ میں ہتک عزت کا مقدمہ درج کراتے ہوئے 5 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا ہے۔ ببر نے اپنی عرضی میں کہا کہ ششی تھرور نے نہ صرف وزیر اعظم مودی کی توہین کی ہے بلکہ ہندوؤں کی توہین کی ہے۔

ششی تھرور نے کہا کہ مختلف کتابوں کے حوالے سے لکھنا ان کا بنیادی حق ہے اور بعض ایسی کتابوں سے انہوں نے حوالہ لیا ہے جو 150سال قبل شائع ہوئے ہیں۔ کیا بی جے پی والے ان کتابوں کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کرائیں گے۔ خیال رہے کہ گزشتہ مہینے ہی ششی تھرور کی کتاب The Paradoxical Prime Minister: Narendra Modi And His India شائع ہوئی ہے۔

ششی تھرور نے کہا کہ ملک میں اظہار خیال کی آزادی، لبرل ازم خطرات لاحق ہیں۔ سماج کو اس حق کی حفاظت کیلئے ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔