مسجد کے لئے زمین خریدنے کی قوت ہم میں ہے، خیرات نہیں چاہیے: اسد الدین اویسی

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے خوش نہیں ہیں اور سپریم کورٹ کی جانب سے 5 ایکڑ زمین دیئے جانے کی پیش کش کو مسترد کر دینا چاہیے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

سپریم کورٹ سے بابری مسجد رام مندر تنازعہ پر فیصلہ سنائے جانے کے بعد کل ہند مسلم اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اویسی نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے 5 ایکڑ زمین دیئے جانے کی پیش کش کو مسترد کر دینا چاہیے۔

اویسی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ملک ہندو راشٹر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پانچ ایکڑ زمین جو دینے کی بات کہی گئی ہے، اسے لینے سے انکار کر دیا جانا چاہیے کیونکہ پانچ ایکڑ زمین خریدنے کی قوت وہ رکھتے ہیں۔

اسد الدین اویسی نے ’’میں وکلاء کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ سے اتفاق کرتا ہوں کہ میں سپریم کورٹ سپریم تو ہے لیکن ’بے عیب‘ نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے کہا ’’مسلم طبقہ نے اپنے قانونی حقوق کے لئے جدوجہد کی ہے۔ ہمیں ’خیرات‘ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے کہ 5 ایکڑ اراضی کی پیش کش ہمیں واپس کر دینی چاہیے۔‘‘

اسد الدین اویسی نے مزید کہا کہ حقائق پر آستھا کی جیت ہوئی ہے اور مجھے اس بات کی فکر ہے کہ اب سنگھ ’کاشی‘ اور ’متھرا‘ کا معاملہ بھی اٹھائے گا۔‘‘

Published: 9 Nov 2019, 3:08 PM