یوگی حکومت میں اب سڑکوں پر نہیں ہوگی نماز، احکامات جاری

پولس ڈائریکٹر جنرل او پی سنگھ کا کہنا ہے کہ شروع میں علی گڑھ اور میرٹھ میں سڑکوں پر ہونے والی جمعہ کی نماز پر پابندی عائد کی گئی تھی اور اب اسے پوری ریاست میں نافذ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اتر پردیش پولس نے پوری ریاست میں سڑکوں پر ہونے والی جمعہ کی نماز پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ پولس ڈائریکٹر جنرل او پی سنگھ نے اس سلسلے میں کہا کہ ”خاص مواقع پر جب زیادہ بھیڑ جمع ہوتی ہے تو ضلع انتظامیہ کے ذریعہ اس کی اجازت دی جا سکتی ہے، لیکن ہر جمعہ کی نماز کے دوران اس روایت کو باضابطہ طور سے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔“ سبھی ضلع پولس سربراہان اور دیگر افسران کو اس سلسلے میں گائیڈ لائنس جاری کر دیئے گئے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سڑکوں پر جام لگا کر نماز ادا نہ کی جائے۔

ڈی جی پی کا کہنا ہے کہ شروعات میں علی گڑھ اور میرٹھ میں بھی اسی طرح کی پابندی عائد کی گئی تھی اور اب اس حکم کو پوری ریاست میں نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ علی گڑھ ضلع انتظامیہ نے پہلے ایک تفصیلی سرکولر جاری کر سڑکوں پر نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی، جس کے بعد اسے کامیابی کے ساتھ نافذ کیا گیا۔

ڈی جی پی او پی سنگھ کا کہنا ہے کہ ضلع کے افسران کو مولویوں اور مسجد انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ کرنے کے لیے کہا گیا تھا تاکہ انھیں یہ بتایا جا سکے کہ سڑکوں پر نماز ادا کرنے سے کس طرح ٹریفک نظام میں رخنہ پیدا ہوتا ہے اور دیگر کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حالانکہ مشہور و معروف سنی مولوی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے اس حکم نامہ کے تعلق سے کہا کہ "کچھ ہی ایسی مسجدیں ہیں جہاں مسلم طبقہ احاطہ کے باہر نماز ادا کرتا ہے۔" انھوں نے مزید کہا کہ "ماضی میں بھی ہم نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سڑکوں پر ٹریفک کو رخنہ انداز کر کے نماز ادا نہ کریں۔"

Published: 14 Aug 2019, 7:10 PM