شمال مشرقی دہلی تشدد معاملہ میں مرکزی حکومت بھی ایک فریق، اگلی سماعت 13 اپریل کو

تشار مہتا نے دہلی پولس کی جانب سے کہا کہ حالات معمول پر آنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض تین تقریروں کو ہی اشتعال انگیز قرار دیا گیا ہے جبکہ بہت سی اشتعال انگیز تقریریں ہیں۔

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے شمال مشرقی دہلی تشد معاملے میں جمعرات کو دہلی حکومت، پولس اور دیگر کو نوٹس جاری کرکے رپورٹ طلب کرتے ہوئے معاملے کی اب اگلی سماعت 13 اپریل کو ہو گی۔

چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس سی ہری شنکر کی بنچ کے سامنے اس معاملے پر سماعت کے دوران سالسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا ہے کہ اس وقت ایف آئی آر درج کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔ تشار مہتا نے کہا کہ دہلی پولس نے اشتعال انگیز تقریر معاملے میں فی الحال کسی کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بدھ کو اس معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے پولس کو اشتعال انگیز تقریر کرنے کے لئے بی جے پی لیڈر انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما اور کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

تشار مہتا نے دہلی پولس کی جانب سے کہا کہ حالات معمول پر آنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض تین تقریروں کو ہی اشتعال انگیز قرار دیا گیا ہے جبکہ بہت سی اشتعال انگیز تقریریں ہیں۔

انہوں نے اس معاملے میں مرکزی حکومت کو بھی ایک فریق بنانے کی عدالت سے درخواست کی۔ بنچ نے مرکزی حکومت کو فریق بناتے ہوئے جواب دینے کے لئے چار ہفتوں کا وقت دیا اور اب اس معاملے کی اگلی سماعت 13 اپریل کو ہوگی۔