گجرات: شمالی ہندوستانی بی جے پی کے خلاف، یوگی پھر میدان میں

بی جے پی اور کانگریس کے انتخابی نشانات

لوگوں کا کہنا ہے ’’ جب کانگریس کی مرکز میں حکومت تھی، تو بی جے پی نے ہمارے ساتھ مل کر ٹرین چلانے کے مطالبہ پر تحریک چلائی، لیکن مودی حکومت کے بننے کے بعد ہماری کوئی خبر نہیں لی۔

گجرات کے سورت میں بی جے پی کو تمام طبقات کی مخالفت کے ساتھ شمالی ہندوستانیوں کی بھی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سورت میں تقریباً 10 فی صد شمالی ہندوستانی قیام پزیر ہیں اور 5 اسمبلی حلقوں میں ان کے ووٹ فیصلہ کن تصور کئے جاتے ہیں۔ اس لئے سخت ہندوتوا کی علامت اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اس چناوی موسم میں تیسری بار گجرات پہنچے۔ یوگی آدتیہ ناتھ پہلے مرحلے کے آخری جلسہ ( جو کہ 7 دسمبر کو منعقد ہوگا ) میں بی جے پی کے لئے ماحول تیار کرنے کا کام کر رہے ہیں۔

سورت میں شمالی ہندوستانیوں کی بی جے پی سے ناراضگی اب جگ ظاہر ہو چکی ہے۔ سورت اور اس کے ملحقہ بھروچ وغیرہ علاقوں میں شمالی ہندوستانیوں کے غصہ کامرکز ریل کی سروس نہ ہو نا ہے اسی سلسلے میں ان لوگوں نے ایک ’ریل سنگھرش سمیتی ‘ بھی بنائی ہوئی ہے ۔ اس سمیتی نے چوراسی اسمبلی حلقہ سے اجے چودھری کو کھڑا کیا ہے۔ بنیادی طور پر بہار کے رہنے والے اجے چودھری پہلے بی جے پی کے رکن تھے اور یہاں شمالی ہندوستانیوں کو بی جے پی کے ساتھ جوڑنے میں مدد کرتے تھے۔ لیکن اس بار انہوں نے شمالی ہندوستانیوں کے مطالبات بالخصوص شمالی ہندوستان کے لئےٹرین شروع کرنے کی مانگ کو بی جے پی کے ذریعہ نظر انداز کیے جانے سے ان لوگوں نے اپنے بغاوتی تیور دکھا دئیے ہیں ۔ انہوں نے بتایا ’’ ہم گزشتہ کئی سالوں سے گجرات و شمالی ہندوستان کے درمیان دو-تین ٹرینیں چلانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ چونکہ اس روٹ پر ابھی تک صرف ایک ہی ٹرین تاپتی گنگا دستیاب ہے جبکہ پوروانچل کے ایک لاکھ سے زائد لوگ یہاں رہتے ہیں۔

لوگوں کا کہنا ہے ’’جب کانگریس کی مرکز میں حکومت تھی، تو بی جے پی نے ہمارے ساتھ مل کر ٹرین چلانے کے مطالبہ پر تحریک چلائی، لیکن مودی حکومت کے بننے کے بعد ہماری کوئی خبر نہیں لی۔ پھر بھی ہم خاموش رہے لیکن چناؤ میں ہمیں سیٹ دینے کا وعدہ کیا ، وہ بھی وفا نہیں کیا۔ اتنا تو ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ اب ہم یہاں سے شمالی ہندوستانیوں کی عزت کے لئے جیتیں گے اور باقی مقامات پر بی جے پی کا کھیل بگاڑ دیں گے۔

ریل نہیں تو چین نہیں کا نعرہ دینے والے تنظیم کے بانی رکن یجروید دوبے جو بنیادی طور پر الہ آباد کے ہیں ، انہوں نے بتایا ’’ ہمارے غصہ کی وجہ سے ہی بی جے پی کو یوگی آدتیہ ناتھ سے لے کر وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ تک کو میدان میں اتارنا پڑ رہا ہے۔ یوگی تیسری بار گجرات پہنچے ہیں اس سے قبل دو دوروں کے دوران ان کے جلسو میں زیادہ گوگ نہیں پہنچے تھبے۔ منوج تیواری کی میٹنگ میں 150 لوگ بھی نہیں آئے تھے اور راجناتھ سنگھ کے اجلاس میں 300 سے بھی کم لوگ موجود تھے۔ بی جے پی نے اپنا سارا زور چوراسی اور لمبایت اسمبلی حلقے پر اسی لئے مرکوز کیا ہوا ہے۔

دوبے کے مطابق سورت کی کم از کم چار-پانچ اسمبلی حلقوں میں شمالی ہندوستانی ووٹروں کی تعداد جیت ہار پر اثر ڈالنے والی ہے۔ مثال کے طور پر چوراسی میں 1.5 لاکھ شمالی ہندوستانی اور اگر راجستھانیوں کو بھی ملا دیا جائے تو 1.94 لاکھ ووٹر ہیں۔ اودنا اسمبلی حلقہ میں 35 ہزار، مجورا میں 30 ہزار اور لمبایت میں 22 ہزار شمالی ہندوستانی ووٹر ہیں۔ اس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ سورت اور ملحقہ علاقوں میں وہ ہاردک پٹیل کے ساتھ مل کر حکمت عملی تیار کر رہے ہیں اور بی جے پی کو ہرانے والوں کے ساتھ جانے کی تیار ی میں ہیں۔

اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ contact@qaumiawaz.com کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نیکمشوروں سے بھی نوازیں۔

سب سے زیادہ مقبول