نوئیڈا حادثہ: بلڈرز کی عدالتی تحویل میں توسیع، تفتیشی افسر کی سرزنش

سافٹ ویئر انجینئر کی موت سے متعلق معاملے میں منگل کو چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے لوٹس گرین بلڈر سے وابستہ ملازمین روی بنسل اور سچن کرنوال کی عدالتی تحویل 29 جنوری تک بڑھا دی ہے۔

عدالت، علامتی تصویر
i
user

قومی آواز بیورو

نوئیڈا سیکٹر 150 کے پاس بیسمنٹ کی تعمیر کے لیے کھودے گئے گہرے گڑھے میں ڈوب کر سافٹ ویئر انجینئر کی موت سے متعلق معاملے میں منگل (27 جنوری) کو چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے لوٹس گرین بلڈر سے وابستہ ملازمین روی بنسل اور سچن کرنوال کی عدالتی تحویل 29 جنوری تک بڑھا دی ہے۔ جبکہ ایم زیڈ وج ٹاؤن بلڈر کمپنی کے ڈائریکٹر ابھے کمار کی عدالتی تحویل 2 فروری تک بڑھا دی ہے۔

اسسٹنٹ گورنمنٹ ایڈوکیٹ سنجیو ترپاٹھی نے بتایا کہ سماعت دوپہر تقریباً 3 بجے شروع ہوئی۔ لوٹس گرین کی جانب سے پیش وکلاء نے دلیل دی کہ گرفتار دونوں ملزمان کمپنی کے ڈائریکٹر یا فیصلہ لینے والے افسر نہیں ہیں، بلکہ تنخواہ دار ملازم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مکمل تفتیش کے بغیر انتظامی اور پولیس دباؤ میں گرفتاری کی گئی اور سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ کمپنی کی جانب سے تقریباً 500 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی ہے، جس میں جائے وقوعہ سے متعلق تکنیکی تفصیلات، جی پی ایس سے لیس سیٹلائٹ تصاویر اور پرانے ریکارڈ شامل ہیں۔


وکلاء کے مطابق 2021 میں نالے کے ٹوٹنے کے بعد سے وہاں آبی جماؤ کی صورتحال بنی ہوئی ہے، جس کی اطلاع نوئیڈا اتھارٹی کو دی گئی تھی اور مرمت کے لیے فنڈ بھی منظور ہوئے تھے، لیکن کام نہیں کرایا گیا۔ ایسے میں ذمہ داری صرف نچلے درجے کے ملازمین پر ڈالنا غیر منصفانہ ہے۔ بحث کے دوران دفاع نے دلیل دی کہ پولیس نے ملزمان کے کردار کا واضح طور پر اندازہ نہیں لگایا اور نہ ہی یہ بتایا کہ انہیں کس بنیاد پر جیل بھیجا گیا۔ بڑے بلڈر اور اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ اب بھی گرفتاری سے باہر ہیں، جبکہ نچلے درجے کے ملازمین کو ملزم بنایا گیا ہے۔ اس بنیاد پر باقاعدہ ضمانت کی درخواست کی گئی۔

سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر سے 500 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطالعہ کے بارے میں سوال کیا۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ رپورٹ کافی بڑی ہونے کی وجہ سے اسے مکمل طور سے پڑھنے کے لیے وقت نہیں مل سکا اور مزید کچھ دن درکار ہیں، اس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ سی جے ایم نے کہا کہ گزشتہ سماعت میں بھی تفتیشی کو مکمل تیاری کے ساتھ آنے کی ہدایت دی گئی تھی، اس کے باوجود رپورٹ کا مطالعہ نہیں کیا گیا۔ عدالت نے اسے سنگین لاپرواہی بتاتے ہوئے تفتیشی افسر کو پھٹکار لگائی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔