پولس والوں نے جوتوں سے پیٹا، کہا ’دلت ہو تمھارا کام نالی صاف کرنا ہے‘: نودیپ کور

مزدوروں کے حقوق کے لیے لڑنے والی کارکن نودیپ کور نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ ’’پولس والوں نے مجھے جوتوں سے پیٹا اور اسپتال بھی نہیں لے گئے۔ مجھ سے کہا گیا کہ دلت ہو، تمھارا کام نالی صاف کرنا ہے۔‘‘

نودیپ کور
نودیپ کور
user

ایشلن میتھیو

’’میں گریجویشن میں داخلہ لینا چاہتی تھی، لیکن جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ جنھوں نے پوسٹ گریجویشن اور پی ایچ ڈی کر رکھی ہے وہ بے روزگار ہیں تو ایسے میں مجھ جیسے کے لیے کیا امید بچتی ہے جس نے اسکول درمیان میں ہی چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اب ایک طویل جدوجہد ہے اور میں مزدوروں کے حقوق کے لیے لڑتی رہوں گی۔‘‘ یہ کہنا ہے 23 سالہ دلت مزدور حقوق کے لیے لڑنے والی کارکن نودیپ کور کا جنھیں گزشتہ مہینے ضمانت ملی ہے۔

نودیپ کو 12 جنوری کو ہریانہ پولس نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ سنگھو بارڈر کے نزدیک کنڈلی کی ایک فیکٹری میں مزدوروں کی تنخواہ کے لیے آواز بلند کر رہی تھیں۔ پولس نے نودیپ پر جبراً وصولی اور قتل کی کوشش جیسے الزامات لگائے ہیں۔ نودیپ نے بتایا کہ انھیں مرد پولس والوں نے گرفتار کر زبردستی جیپ میں ٹھونس دیا تھا۔ پولس کی گاڑی میں انھیں لاٹھیوں اور جوتوں سے پیٹا گیا۔ مزدور حقوق پر مبنی تنظیم کی رکن نودیپ کو کنڈلی تھانہ لے جایا گیا جہاں انھیں پھر سے ظلم کا شکار بنایا گیا اور آخر میں انھیں سونی پت لے جایا گیا۔


نودیپ نے بتایا کہ ’’دونوں ہی تھانوں میں کوئی خاتون کانسٹیبل نہیں تھی۔ انھوں نے مجھے اس طرح پیٹا تھا کہ کئی دن تک میں چل بھی نہیں سکی۔ وہ لگاتار مجھے گالیاں دیتے اور کہتے کہ دلت ہو تو دلت کی ہی طرح سلوک کرو۔ وہ مجھے کہتے تمھارا کام نالیاں صاف کرنا ہے، کسی فیکٹری مالک کے خلاف تحریک چلانا نہیں۔‘‘

نودیپ کی گرفتاری کا ایشو بین الاقوامی سطح پر اٹھا تھا۔ امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس کی بھتیجی مینا ہیرس نے نودیپ کی گرفتاری کی مخالفت کرتے ہوئے انھیں آزاد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ نودیپ کو ضمانت دلانے میں دہلی سکھ گرودوارہ پربندھک کمیٹی نے کافی مدد کی۔


ہریانہ پولس نے نودیپ پر تین معاملے درج کرائے ہیں۔ اس میں قتل کی کوشش، جبراً وصولی، فساد پھیلانے اور دھمکانے کے الزامات شامل ہیں۔ سونی پت پولس نے نودیپ پر پولس کے اوپر حملہ کرنے کا بھی الزام عائد کیا تھا۔ تقریباً 45 دن حراست میں رہنے کے بعد نودیپ کو آخر 12 فروری کو ضمانت مل گئی تھی۔ نودیپ کہتی ہیں کہ ’’پولس تو سرکاری ظلم کا ایک ہتھیار ہے جسے عام لوگوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘

اس درمیان پولس نے نودیپ کے الزامات سے انکار کیا ہے جب کہ چنڈی گڑھ کے سرکاری میڈیکل کالج اسپتال میں ہوئی نودیپ کی میڈیکل جانچ میں ان کے جس پر چوٹوں کے نشان پائے گئے ہیں۔ نودیپ کے بائیں پیر میں سوزن ہے اور بائیں پیر کا ناخون اکھڑ گیا ہے، ساتھ ہی پیر کی دوسری اور تیسری انگلی کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ علاوہ ازیں 25 جنوری کو سونی پت کے سول اسپتال میں ہوئی میڈیکل جانچ میں بھی نودیپ کی بائیں جانگھ اور کولہوں پر پیٹے جانے کے نیلے نشان ملے ہیں۔


نودیپ کی بڑی بہن راجویر، جو دہلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کسی طرح ہم نودیپ کی میڈیکل جانچ کرا پائے، وہ بھی گرفتاری کے دو ہفتہ بعد۔ انھوں نے بتایا کہ نودیپ کو گرفتاری کے بعد ڈاکٹری علاج نہیں دیا گیا۔ اس کے لیے بھی ہمیں جدوجہد کرنی پڑی۔

نودیپ جیل سے آزاد ہونے کے بعد سنگھو بارڈر پر مظاہرین کسانوں کے ساتھ ہی رہ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پولس نے انھیں اس لیے ظلم کا شکار بنایا کیونکہ وہ کسانوں کی حمایت کر رہی تھیں۔ نودیپ کہتی ہیں کہ حکومت انھیں ذات اور مذہب کے نام پر تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ نودیپ کے ساتھ ہی گرفتار ایک دیگر احتجاجی شیو کمار کو ابھی ضمانت نہیں ملی ہے۔ نودیپ بتاتی ہیں کہ شیوکمار کا ہاتھ ٹوٹ گیا ہے، لیکن وہ اب بھی جیل میں ہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔