سماجوادی پارٹی میں شکست کے بعد اندرخانہ سرگوشیاں، ابھی جائزہ میٹنگ نہیں

ایس پی کے سابق رکن پارلیمان کے مطابق ہم اس قدر پراعتماد تھے کہ ہم نے یہ کوشش بھی نہیں کی کہ آیا بی ایس پی کا ووٹ ایس پی امیدوار کو ٹرانسفر ہوگا کہ نہیں، اسی لئے ہمیں اس کا خامیازہ بھگتنا پڑا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لکھنؤ: یکے بعد دیگرے تین شکستوں سے دوچار ہونے کے بعد سماج وادی پارٹی کے اندرخانہ سکشت کی جوابدہی کے لئے سرگوشیوں کا بازار گرم ہے، باجود اس کے اترپردیش اسمبلی میں اپوزیشن پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ابھی تک دوسری پارٹیوں کی طرح پارلیمانی الیکشن میں پارٹی کی شکست کے لئے جائزہ میٹنگ نہیں بلائی ہے۔ سماج وادی پارٹی کو اترپردیش میں بالترتیب 2014، 2017 اور 2019 میں بی جے پی نے یکے بعد دیگرے شکست سے دوچار کیا ہے جبکہ سماج وادی پارٹی کے ووٹ شیئر میں لگاتار گراوٹ درج کی گئی ہے۔

انتخابات میں روایتی طور پر بھی کسی قسم کی میٹنگ منعقد کرنے کے برعکس پارٹی ہار کے لئے ایک دوسرے پر اندر خانے الزامات در الزامات کا بازار گرم ہے۔ پارٹی صدر اکھلیش یادو نے 3 جون کو اپنے پارلیمانی حلقے اعظم گڑھ کے دورے کے دوران ہار کے لئے بی جے پی کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ فراری اور بائیک‘‘ کے درمیان کا مقابلہ تھا اس لئے بی جے پی کے جارحانہ مہم کا مقابلہ نہیں ہوسکا۔

پارٹی کا ایک طبقہ خاص طور سے وہ جو ایس پی۔بی ایس پی۔آر ایل ڈی اتحاد کی وجہ سے الیکشن نہیں لڑ سکے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ’’اب بہت ہوچکا، پارٹی اعلی کمان کو دو ٹوک انداز اپناتے ہوئے اس ضمن میں ایکدم واضح بات کرنے کی ہمت کرنی چاہیے اور یہ سب ریاست میں ضمنی انتخابات کے اعلان سے قبل ہی ہوجانا چاہیے‘‘۔

نام نہ بتانے کی شرط پر ایس پی کے ایک ایم ایل اے نے کہا کہ ’’ہمارے لئے وقت آگیا ہے کہ ہم اب اس مشکل گھڑی سے سخت فیصلوں سے نپٹیں۔ اکھلیش یادو کو پارٹی صدر کے عہدے سے استعفی دے دینا چاہیے اور ایسی صورت میں ہی موجودہ انتخابات میں پارٹی کی شکست کی وجوہات کا غیر جانبدارانہ طور سے جائزہ لیا جاسکتا ہے اور اس طرح خاندان میں مصالحت کا آغاز ہوسکتا ہے۔

سماج وادی پارٹی کے سابق رکن پارلیمان کے مطابق ہم اس قدر پراعتماد تھے کہ ہم نے یہ جانے کی بھی کوشش نہیں کی کہ آیا بی ایس پی کا ووٹ سماج وادی پارٹی کے امیدوار کو ٹرانسفر ہوگا کہ نہیں۔ اسی لئے ہمیں اس کا خامیازہ بھگتنا پڑا اور ہم یکے بعد دیگرے تین الیکشن ہار گئے۔ پہلا 2014 کے عام انتخابات جب اکھلیش یادو ریاست کے وزیر اعلی تھے۔ دوسرا 2017 کے اسمبلی انتخابات جب وہ ریاست کے وزیر اعلی اور پارٹی کے صدر تھے۔ 2019 میں تیسری مرتبہ بھی انہیں کی سربراہی میں پارٹی کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ لیکن ابھی تک پارٹی کی اعلی قیادت نے کوئی جائزہ میٹنگ نہیں کی اور نہ ہی ہار کی وجوہات کو جاننے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق تین انتخابات میں مسلسل ہار کے بعد ہم بغیر کسی جائزہ میٹنگ اور شکست کی بنیادی وجوہا ت پر غور وخوض کیے بغیر آگے کی حکمت عملی کیسے طے کرسکتے ہیں۔

ایس پی کے ایک دیگر لیڈر کے مطابق ’’مایاوتی نے لوک سبھا انتخابات کے فوراً بعد جائزہ میٹنگ کی اور ہمارے ساتھ اتحاد کو ختم کرنے میں کوئی وقت ضائع نہیں کیا۔ انہوں نے ہمارے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے لیکن باوجود اس کے پارٹی میں کوئی نہیں ہے جو بی ایس پی سپریمو کے جھوٹے الزامات کا جواب دینے کی ہمت کرسکے۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈروں نے اس نیوز رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ملائم سنگھ یادو نے پارٹی کی کمان سنبھال لی ہے اور اپنے بیٹے اکھلیش یادو سے چچا شیوپال سے سبھی تنازعات کو ختم کرنے کو کہا ہے۔