ان مہاجر مزدوروں کا ہمدرد کوئی نہیں، کیا حکومتیں بےحس ہو گئی ہیں؟

ہر سطح پر حکومتوں کے ہونے کے با وجود غریب مہاجر مزدور کہیں مال گاڑی سے کچلے جاتے ہیں، کہیں ٹرک کے پلٹے جانے سے ان کی موت ہو جاتی ہے اور کہیں بس تو کہیں ٹریکٹر ان کو روند کر چلا جاتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں سے شروع کروں اور کیا کہوں کیونکہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو لوگ دیکھ نہیں رہے ہیں یا دکھائی نہیں جا رہی ہے۔بیشتر ہندوستان کی کوئی ایسی قومی شاہرہ نہیں ہے جہاں شہروں سے اپنے گاؤں کی جانب ہجرت کرتے مزدور نظر نہیں آ رہے۔ کہیں ایک معصوم بچے کو اٹیچی پر بٹھا کر اس کی والدہ چلنے سے بچانے کے لئے اٹیچی گھسیٹتی نظر آ رہی ہے (حالانکہ تصویر سے ظاہر ہے کہ خود ماں کے لیے چلنا دشوار کن ہے اور اصل معنوں میں یہ تصویر موجودہ حالات کی چیخ چیخ کر ترجمانی کر رہی ہے)، تو کہیں غریب مزدور ممبئی اور سورت سے مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور بہار میں اپنے گھروں کی جانب سفر کرتے نظر آ رہے ہیں۔ کہیں دہلی، جے پور اور پنجاب سے بڑی تعداد میں مزدور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اپنے گاؤں کی جانب گامزن ہیں، تو کہیں پیدل اپنی ریاستوں کی جانب بڑھ رہے مہاجر مزدور حادثات کے شکار ہو رہے ہیں۔

جنوبی ہندوستان سے ایسی تصاویر کم نظر آ رہی ہیں۔ کرناٹک اور آندھرا سے کچھ تصاویر سامنے آئی تھیں لیکن وہ بھی نہ بڑی تعداد میں تھیں اور نہ ایسی تھیں جیسی کہ شمالی ہندوستان میں نظر آرہی ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ملک میں مرکزی حکومت سے لے کر پنچایتی سطح تک انتظامیہ ہے لیکن پھر بھی یہ سلسلہ گزشتہ ایک ماہ سے رکتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ عقل اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ جن حکومتوں کے پاس تمام ذرائع ہیں وہ حکومتیں اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اتنی بے فکر کیوں ہے۔

بات صرف یہیں تک نہیں ہے کہ ہر سطح پر حکومتوں کے ہونے کے با وجود غریب مزدور بڑے پیمانہ پر ہجرت کرتے نظر آ رہے ہیں، بلکہ یہ غریب مزدور کہیں مال گاڑی سے کچلے جاتے ہیں، کہیں ٹرک کے پلٹے جانے سے ان کی موت ہو جاتی ہے اور کہیں بس تو کہیں ٹریکٹر ان کو روند کر چلا جاتا ہے۔ ایسا نہیں کہ جس چیز کو ہم دیکھ پا رہے ہیں اس کو اقتدار میں بیٹھے لوگ نہیں دیکھ پا رہے ہوں گے۔ لیکن پھر بھی ان کا ایسا رویہ ... کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ کیا حکومت اتنی بےحس ہو گئی ہیں کہ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ؟ کیا یہ لوگ انتخابات کے علاوہ سیاسی پارٹیوں کے کسی کام کے نہیں ہوتے یا پھر حکومت ان کو اپنی ذمہ داریوں میں شمار نہیں کرتی؟ کیا یہ نیا عالمی نظام ہے جس میں غریب کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ؟بہرحال صورتحال بہت خراب ہے۔طبی بحران تو جو ہے سو ہے لیکن معاشی اور سماجی بحران کے محاذ پر بھی حکومت پوری طرح ناکام نظر آ رہی ہے۔

حکومتوں کو ان مزدوروں کو یا تو گھر جانے سے روکنا تھا اور اس کے لئے کچھ زیادہ نہیں کرنا تھا بس جہاں ان کی ضروریات کا خیال رکھنا تھا وہیں ان میں اعتماد پیدا کرنا تھا اور یہ یقین دلانا تھا کہ ان کا خیال رکھنے والا کوئی ہے۔ اگر حالات ایسے تھے کہ ان مزدوروں کو ان کے گھر بھیجنے میں ہی وبا پر قابو پانے کا کوئی راستہ نظر آ رہا تھا تو کسی بھی حکوت کے لئے ان مزدوروں کو ان کے گھر بھیجنے میں کوئی بڑی دشواری نہیں تھی۔ ریاستی حکومتوں کے پاس جہاں اپنی سرکاری بسیں ہیں وہیں ان کو چلانے والے ڈرائیور اور کنڈکٹر بھی ہیں اور بغیر کرائے کے ان کو ان کے گھر بھیجنے میں صرف ڈیزل کا خرچ آتا جس کا برداشت کرنا کسی بھی حکومت کے لئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کے پاس ٹرینوں کا ایک بیڑا ہے اور اس کے ساتھ ملازمین کی ایک بڑی فوج ہے اور سب کو حکومت تنخواہ دے ہی رہی ہے۔ ٹرین کے ذریعہ بھیجنے میں بھی صرف بجلی اور ایندھن کا ہی خرچ آتا۔ حکومت کے لئے ان لوگوں کی نشاندہی اور ان کو سماجی دوری پر عمل کرتے ہوئے بھیجنے میں کسی راکیٹ سائنس کی ضرورت نہیں تھی لیکن کسی بھی حکوت نے ایسا نہیں کیا۔ نتیجہ سامنے ہے کہ بڑی تعداد میں غریب مزدور اپنے اہل خانہ کے ساتھ سڑکوں پر پیدل اپنے گھر کی جانب بڑھتے نظر آ رہے ہیں۔

حکومت نے بڑے بڑے اعلانات کر دیے ہیں، اخبار اور ٹی وی پر بڑی بڑی سرخیاں بٹور لی ہیں، لیکن صورتحال میں کوئی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ غریب کامزید غریب ہونا طے نظر آ رہا ہے اور امیر کا مزید امیر ہونا بھی صاف نظر آ رہا ہے۔ اس کی مثال ابھی حال ہی میں تین بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کا ریلائنس انڈسٹریز کے ساتھ معاہدہ ہو نا ہے۔ یہ غریب مزدور جس خوف اور پریشانی کے عالم میں آج اپنے گاؤں کی جانب جینے کی امیدسے گامزن ہیں، کچھ مہینوں بعد یہ مزدور اسی خوف اور پریشانی کی حالت میں گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہوں گے جب ان کے گھروں میں فاقہ کی نوبت آ جائے گی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ شہروں میں دن رات محنت کر نے کا مقصد ہی ان مزدوروں کو فاقہ کی صورتحال سے لڑنے کا ہے۔ مطلب صاف ہے کہ ایسا ہی چلتا رہے گا۔ غریب کو ہم نے نوٹ بندی میں قطاروں میں لگتے، جان دیتے اور پریشان ہوتے دیکھا ہے۔ لیکن سماج ویسے ہی چلتا رہا ہے، حکومتیں ویسے ہی کام کرتی رہی ہیں،رہیں گی اور غریب مرتا بھی رہا ہے اور مر مرکے جیتا بھی رہا ہے۔ بس نوٹ بندی کے بعد کچھ لوگ جو با عزت طریقہ سے اپنا کوئی چھوٹا کاروبار چلاتے تھے وہ اب ای رکشا چلا رہے ہیں۔ کورونا بحران کے بعد جو کارخانہ میں مزدوری کرتے تھے وہ یا تو بھیک مانگیں گے یا سبزی کے ٹھیلے لئے سڑکوں پر گھومیں گے۔ افسوس صد افسوس کہ موجودہ حالات پر کسی کو غصہ نہیں آ رہا ہے۔ گویا کہ سماج بری طرح سسک رہا ہے کیونکہ غصہ زندگی سے لبریز سماج کی ایک پہچان ہے۔

Published: 15 May 2020, 4:11 PM