الور موب لنچنگ: کیا واقعی پہلو خان کو کسی نے نہیں مارا؟ لوگوں کے ذہن میں اٹھ رہے سوال

پہلو خان موب لنچنگ معاملہ میں 9 لوگوں کو ملزم بنایا گیا تھا جن میں 6 بالغ تھے اور 3 نابالغ۔ عدالت نے 6 بالغ ملزمین کو بری کر دیا اور 3 نابالغ ملزمین کی سماعت جوینائل کورٹ میں کیے جانے کا فیصلہ سنایا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر احمد

الور ڈسٹرکٹ کورٹ کے ذریعہ 14 اگست کو پہلو خان موب لنچنگ معاملہ میں سبھی 6 بالغ ملزمین کو بری الذمہ قرار دے دیا گیا۔ ایڈیشنل ضلع و سیشن جج جسٹس سریتا گوسوامی نے پیش کیے گئے سبھی ثبوتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس فیصلہ سے پہلو خان کے اہل خانہ اور اقلیتی طبقہ میں مایوسی پھیلنا فطری ہے۔ انھیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے پہلو خان کو کسی نے نہیں مارا۔ حالانکہ پہلو خان کی موب لنچنگ کا ویڈیو دو سال پہلے ہی وائرل ہو گیا تھا اور اس ویڈیو کی بنیاد پر پولس نے ثبوت جمع کیے تھے۔ لیکن جن لوگوں کو ملزم بنایا گیا تھا، وہ سب بری کر دیئے گئے ہیں۔ عدالت نے صاف لفظوں میں انھیں بری کر دیا ہے۔ لیکن لوگوں کے دلوں میں یہ سوال اب بار بار اٹھ رہا ہے کہ کیا واقعی پہلو خان کو کسی نے نہیں مارا؟

دراصل پہلو خان موب لنچنگ معاملہ میں 9 لوگوں کو ملزم بنایا گیا تھا جن میں 6 بالغ تھے اور 3 نابالغ۔ عدالت نے 6 بالغ ملزمین کو بری کر دیا اور 3 نابالغ ملزمین کی سماعت جوینائل کورٹ میں کیے جانے کا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلہ پر لوگوں کا سخت رد عمل آنا شروع ہو گیا ہے۔ ایک طرف جہاں راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے پہلو خان موب لنچنگ کے سبھی ملزمین کو بری کیے جانے کے بعد ضلع و سیشن کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی بات کہی ہے، وہیں دوسری طرف سورا بھاسکر اور اونیر جیسی معروف ہستیوں نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے اس فیصلہ پر حیرانی ظاہر کی ہے۔ حالانکہ ہندوتوا ذہنیت کے لوگ عدالت کے اس فیصلہ پر جشن منا رہے ہیں۔

اشوک گہلوت نے پہلو خان موب لنچنگ معاملہ میں عدالتی فیصلہ صادر ہونے کے بعد کہا کہ اس معاملے میں سبھی ملزمین کو بری کرنے کے فیصلے کے خلاف وہ اپیل کریں گے۔گہلوت نے 14 اگست کو ہی اس تعلق سے ٹوئٹ کیا تھا جس میں انھوں نے لکھا کہ "ہم نے موب لنچنگ کے خلاف اسی مہینے کے پہلے ہفتے میں قانون بنایا ہے۔ ہم مرحوم پہلو خاں کے خاندان کو انصاف دلانے کے لیے پرعزم ہیں۔" اس سلسلے میں گہلوت نے 15 اگست کو بھی ٹوئٹ کیا جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ "ہماری حکومت نے سوچ سمجھ کر اس (موب لنچنگ) قانون کو پاس کرایا ہے۔ جلد ہی یہ نافذ ہو جائے گا اور پہلو خان معاملے میں بھی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم واپس اپیل کریں گے۔"

معروف فلمی ہستی اور سماجی کارکن سورا بھاسکر نے تو عدالت کے فیصلے کو انتہائی شرمناک قرار دیا۔ انھوں نے اس فیصلہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ "بے حد شرمناک۔ یہ لنچنگ پوری طرح کیمرے میں قید ہوئی ہے۔ ہم ایسی ریاست میں رہتے ہیں جو چاروں طرف سے شرپسندی سے بھرپور ہے۔ قانون، آئین اور یہاں تک کہ سبھی ثبوت بے معنی نظر آ رہے ہیں۔ یہ تاریک دور ہے۔" بالی ووڈ ہدایت کار اونیر نے بھی پہلو خان معاملہ میں عدالتی فیصلہ پر ناخوشی کا اظہار کیا۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ "ان دنوں مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں مایوس ہوؤں، غصہ کروں یا پھر ناامیدی محسوس کروں۔"

واضح رہے کہ ہریانہ کے ضلع نوح (میوات) کے رہنے والے پہلو خان ایک ڈیری چلاتے تھے۔ وہ یکم اپریل 2017 کو بھینس خریدنے کے لئے جے پور گئے لیکن زیادہ دودھ ملنے کی امید پر گائے خرید لی۔ انہیں الور میں ہندو تنظیموں سے وابستہ اور مبینہ گئو رکشکوں نے گھیر لیا اور ان کی لنچنگ کی۔ واردات میں پہلو خان کو شدید زخم لگے، ان کے علاوہ ان کے بیٹے سمیت 5 لوگ بھی زخمی ہو گئے ۔ علاج کے دوران اسپتال میں پہلو خان زخموں کی تاب نہ لا سکے اور چل بسے ۔

موب لنچنگ کے اس واقعہ کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور کئی سماجی کارکنان و تنظیموں نے اس طرح کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ لیکن کچھ ہندوتوا ذہنیت کے لوگوں نے شر پسند عناصر کا حوصلہ بڑھانے کا کام کیا۔ اس درمیان ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے میوات کا دورہ کر کچھ ایسی باتیں سامنے لائیں جس سے ظاہر ہوا کہ پولس پورے معاملے کو دبانے اور ملزمین کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کچھ نکات پیش کیے جو اس طرح ہیں...

  • ایف آئی آر کے مطابق پولس کوپہلو خان کے قتل کی جانکاری 2 اپریل کو صبح 4.24 منٹ پر ہوئی۔ چانچ کرنے پر پایا گیا کہ واقعہ یکم اپریل شام 7 بجے کا ہے۔ جائے وقوعہ سے پولس اسٹیشن کا فاصلہ محض 2 کلو میٹر ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق پولس کو تقریباً 9 گھنٹے بعد واقعہ کی اطلاع حاصل ہوئی۔
  • ایف آئی آر میں درج کیا گیا ہے کہ پہلو خان کا بیان رات 11 بج کر 40 منٹ پر ریکارڈ کر لیا گیا تھا۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ جب پولس کو اطلاع ہی اگلی صبح چار بجے حاصل ہوئی تو پھر بیان ساڑھے چار گھنٹے قبل کیسے درج کر لیا ۔
  • حملے کے آدھے گھنٹے بعد پولس پہلو خان اور ان کے بیٹے کو اسپتال لے کر گئی۔ جبکہ ایف آئی آر میں کسی چشم دید پولس اہلکار کا نام نہیں ہے۔ انہیں کیس میں گواہ تک نہیں بنایا گیا۔
  • قبل از مرگ دئیے گئے اپنے بیان میں پہلو خان نے 6 افراد کے ناموں کا تذکرہ کیا تھا۔ پہلو خان کے بیان کے مطابق ان پر حملہ کرنے والے کہہ رہے تھے کہ وہ بجرنگ دل اور وی ایچ پی کے ارکان ہیں۔ ایسے میں سوال کھڑا ہوتا ہے کہ جب پہلوخان اس علاقے کا رہائشی ہی نہیں تھا تو اسے انہیں 6 لوگوں کے نام یاد کس طرح رہ گئے۔ آخر کس نے اسے یہ نام دئیے تھے؟
  • پولس رپورٹ میں کہا گیا کہ پہلو خان کے قبل از مرگ بیان کی جانچ کی گئی اور یہ پایا گیا کہ 6 ملزمان اس وقت گئو شالہ میں موجود تھے۔
  • تمام 6 ملزمان نے جانچ میں پولس کو یہ بتایا کہ جائے وقوعہ پر ان کے موبائل فون موجود نہیں تھے اور پولس نے ان کے اسی بیان کو ثبوت مان لیا۔
  • تمام ملزمان 5 مہینے تک فرار رہے اور اچانک پولس کے پاس آکر اپنے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے یہ انکشاف کرتے ہیں کہ وہ جائے وقوعہ پر موجود ہی نہیں تھے۔ یہ بات بھی پولس کی جانچ پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔
  • بہروڑ کے تین سرکاری ڈاکٹروں نے بیان دیا کہ پہلو خان کی موت ان زخموں کی وجہ سے ہوئی جو اسے حملہ کے دوران لگے تھے ۔
  • پولس نے سرکاری ڈاکٹروں کی رپورٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک پرائیویٹ اسپتال ( جس کے مالک بی جے پی کے رہنما اور مرکزی وزیرہیں )کے ڈاکٹروں کی بات سچ مانی۔
  • بی جے پی رہنما کے اسپتال کے ڈاکٹروں نے پولس کو بتایا کہ جب پہلو خان اسپتال پہنچا ، تو اس کی حالت ٹھیک تھی۔ اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا اور سینے میں درد کی شکایت تھی۔ اس بنیاد پر ڈاکٹروں نے پہلو خان کی موت کی وجہ حرکت قلب کا بند ہو جانا قرار دے دیا۔
Published: 15 Aug 2019, 6:10 PM
next