اومیکرون کی تشخیص کے لئے 4 دن انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، دو گھنٹے میں مل جائے گا نتیجہ!

آسام کے ڈبروگڑھ آسی ایم آر - آر ایم آر سی نے ایک ایسی ٹیسٹنگ کٹ تیار کی ہے جو محض دو گھنٹے میں اومیکرون ویرینٹ کی تصدیق کر سکتی ہے، یہاں کے ایک سائنسدان نے اس کٹ کو تیار کیا ہے

اومیکرون / آئی اے این ایس
اومیکرون / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

جورہاٹ: کوئی شخص کورونا وائرس کے اومیکروں ویرینٹ سے متاثر ہے یا نہیں اس کی ٹیسٹنگ کے لئے آسام کے سائنسدان نے ایک کٹ تیار کی ہے۔ اس کٹ کے ذریعے محض دو گھنٹے میں اومیکرون کے انفیکشن کی تشخیص کی جا سکے گی۔ یہ کٹ پوری طرح سے ہندوستان میں تیار کردہ (میڈ ان انڈیا) ہے۔ اس میں جانچ کے لئے ہائیڈرولیسس آر ٹی - پی سی آر سسٹم کا استعمال کیا جاتا ہے۔

عالمی وبا کورونا کا خوف کچھ کم ہوتا ہے تو اس کے کسی نئے ویرینٹ سے لوگوں میں خوف طاری ہو جاتا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اومیکرون ویرینٹ کورونا کے دوسرے ویرینٹ سے بہت زیادہ خطرناک ہے اور زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کورونا کی جانچ کرنے کے بعد رپورٹ ملنے میں تین سے چار دن کا وقت لگ جاتا ہے۔


لیکن اب آسام کے ڈبروگڑھ آئی اسی ایم آر - آر ایم آر سی نے ایسی ٹیسٹنگ کٹ تیار کی ہے جو محض دو گھنٹے میں اومیکرون ویرینٹ کی موجودگی کی اطلاع دے سکے گی۔ یہاں کے سائنسدان ڈاکٹر وشو بوکوٹکوکی نے اس کٹ کو تیار کیا ہے۔ ڈاکٹر بورکوٹوکی اور آئی سی ایم آر کی ٹیم نے ریئل ٹائم آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کٹ تیار کی ہے۔ یہ ٹیسٹ کٹ وقت بچاتی ہے اور ہوائی اڈوں پر بہت کام کی ثابت ہوگی۔

لیب ٹیسٹنگ کے دوران اس کٹ کو 100 فیصد درست پایا گیا ہے۔ اب اس کے نتائج کا پونے میں واقع نیشنل وائرولاجی انسٹی ٹیوٹ میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جلد ہی جائزہ رپورٹ کو عوامی کر دیا جائے گا۔

اس کٹ کو بنانے کی ذمہ داری کولکاتا میں واقع بائیوٹیک کمپنی جی سی سی بائیوٹیک کو دی گئی ہے، جو پی پی پی موڈ میں اگلے 3 سے 4 دنوں میں کٹ کی تیاری شروع کر دیگی۔ امید ہے کہ اگلے ہفتہ میں یہ میڈ ان انڈیا کٹ بازار میں دستیاب ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔