بھومی پوجن: ’دلبرداشتہ نہ ہوں، حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے، آیا صوفیہ اس کی مثال‘

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک بیان میں کہا کہ بابری مسجد، مسجد تھی اور ہمیشہ مسجد ہی رہے گی، غاصبانہ قبضہ سے حقیقت بدل نہیں جاتی، سپریم کورٹ نے فیصلہ ضرور دیا ہے مگر انصاف کو شرمسار کیا ہے

بابری مسجد تو مسمار کرتے ہندو انتہا پسند / تصویر ٹوئٹر
بابری مسجد تو مسمار کرتے ہندو انتہا پسند / تصویر ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لئے ہونے جا رہے بھومی پوجن سے قبل آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ایک بیان جاری کر کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مایوس نہ ہوں کیونکہ وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ بابری مسجد، مسجد تھی اور ہمیشہ رہے گی، مسجد میں مورتیاں رکھ دینے سے، پوجا پاٹھ شروع شروع کر دینے سے یا ایک لمبے عرصے تک نماز پر روک لگا دینے سے مسجد کی حیثیت ختم نہیں ہو جاتی۔

خیال رہے کہ ایودھیا میں آج بابری مسجد کے مقام پر ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی رام مندر تعمیرکے لئے بھومی پوجن کرنے جا رہے ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ لوگ جہاں خوشیاں منا رہے ہیں وہیں مسلمانوں میں اس بات کو لے کر مایوسی ہے کہ جس جگہ پر کبھی بابری مسجد موجود تھی وہاں آج مندر بنایا جا رہا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ بابری مسجد کسی مندر یا کسی ہندو عبادت گاہ کو توڑ کر نہیں بنائی گئی اور سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں ہمارے اس موقف کی تصدیق بھی کی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ بابری مسجد کے نیچے کھدائی میں جو آثار ملے ہیں وہ 12 ویں صدی کی کسی عمارت کے تھے بابری مسجد کی تعمیر سے 4 سو سال قبل، لہذا کسی مندر کو توڑ کر مسجد نہیں بنائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے صاف طور پر کہا کہ بابری مسجد میں 22 دسمبر 1949 کی رات تک نماز ہوتی رہی ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ بھی ماننا ہے کہ 22 دسمبر 1949 میں مورتیوں کا رکھا جانا ایک غیر قانونی اور غیر دستوری عمل تھا، سپریم کورٹ یہ بھی مانتا ہے کہ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کی شہادت ایک غیر قانونی غیر دستوری اور مجرمانہ فعل تھا۔ افسوس کہ ان تمام واضح حقائق کو تسلیم کرنے کے باوجود کورٹ نے ایک انتہائی غیر منصفانہ فیصلہ دیا، مسجد کی زمین ان لوگوں کے حوالے کردی جنہوں نے مجرمانہ طریقہ پر اس میں مورتیاں رکھیں اور اس کی شہادت کے مرتکب ہوئے۔

ترکی: اسنبول کی آیا صوفیہ مسجد میں 86 سال بعد نماز پڑتھے مسلمان / تصویر Getty Images
ترکی: اسنبول کی آیا صوفیہ مسجد میں 86 سال بعد نماز پڑتھے مسلمان / تصویر Getty Images

بورڈ کے جنرل سکریٹری نے آگے کہا کہ چونکہ عدالت عظمی ملک کی اعلی ترین عدالت ہے، لہذا اس کے حتمی فیصلے کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے تاہم ہم یہ ضرور کہیں گے کہ یہ ایک ظالمانہ اور غیر منصفانہ فیصلہ ہے جو اکثریتی زعم میں دیا گیا۔ سپریم کورٹ میں 9 نومبر 2019 کو فیصلہ ضرور دیا ہے مگر انصاف کو شرمسار کیا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے نمائندہ اجتماعی پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دیگر فریقوں نے بھی عدالتی لڑائی میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا۔ یہاں یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ ہندوتوا عناصر کی یہ پوری تحریک ظلم، جبر، دھونس، دھاندلی کذب اور افتراء پر مبنی تحریک تھی۔ یہ سراسر ایک سیاسی تحریک تھی جس کا مذہب یا مذہبی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں تھا جھوٹ اور ظلم پر مبنی عمارت کبھی بھی پائیدار نہیں ہوتی۔

جنرل سیکریٹری نے اپنے بیان میں آگے کہا کہ حالات چاہے جتنے خراب ہوں ہمیں حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے مخالف حالات میں جینے کا مزاج بنانا چاہیے نئے حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ ہمیں نہ تو مایوس ہونا ہے اور نہ حالات کے آگے سپر ڈالنا ہے ہمارے سامنے استنبول کی ایا صوفیہ مسجد کی مثال اس کی منہ بولتی تصویر ہے۔

انہوں نے کہا، ’’میں مسلمانان ہند سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ اور مسجد کی زمین پر مندر کی تعمیر سے ہرگز بھی دل برداشتہ نہ ہوں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیےکہ توحید کا عالمی مرکز اور اللہ کا گھر خانہ کعبہ بھی ایک لمبے عرصے تک شرک و بت پرستی کا مرکز بنا رہا بالآخر فتح مکہ کے بعد پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ وہ دوبارہ مرکز توحید بنا۔ انشاء اللہ ہمیں پوری توقع ہے کہ صرف بابری مسجد ہی نہیں یہ پورا چمن نغمہ توحید سے معمور ہوگا۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسے نازک موقع پر اپنی غلطیوں سے توبہ کریں، اخلاق و کردار کو سنواریں، گھر اور سماج کو دیندار بنائیں اور پورے حوصلہ کے ساتھ مخالف حالات میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کریں۔‘‘

Published: 5 Aug 2020, 11:39 AM
next