دل سے جیل جانے کا خوف جاتا رہا: صدف جعفر

سی اے اے کے خلاف احتجاج میں شمولیت کے پاداش میں جیل جانے کے بعد رہا ہونے والی صدف جعفر نے اپنی گرفتاری اور ریاستی پولیس کی جانب سے انکے خلاف کی گئی بربریت کے لئے یوگی آدتیہ ناتھ پر تنقید کی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لکھنؤ: شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف احتجاج میں شمولیت کے پاداش میں جیل جانے کے بعد منگل کے روز رہا ہونے والی کانگریس لیڈر صدف جعفر نے اپنی گرفتاری اور ریاستی پولیس کی جانب سے انکے خلاف کی گئی بربریت کے لئے اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی تنقید کی۔

لکھنؤ کی ضلع جیل سے باہر نکلنے کے بعد صدف نے میڈیا نمائندوں سے کہا ’’جیل جا کر میرے دل سے خوف ختم ہوگیا ہے۔ اب اس متنازع قانون کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے میرے اندر مزید ہمت پیدا ہوگئی ہے۔‘‘

انہوں نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پر طنز کستے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی کا شکریہ کہ انہوں نے میرے اندر سے جیل جانے اور پیٹے جانے کا خوف ختم کر دیا۔

صدف جعفر اور سماجی کارکن و سابق آئی پی ایس افسر ای آر دارا پوری سمیت متعدد افراد کو گذشتہ 19 دسمبر کو ریاستی راجدھانی لکھنؤ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونےوالے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کے پاداش میں جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ گذشتہ سنیچر کو ایک مقامی کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

صدف جعفر کو جب پولیس نے گرفتار کیا تھا اس وقت وہ فیس بک لائیو ویڈیو بنارہی تھیں جس میں وہ تشدد پر آماد افراد کے خلاف کچھ کاروائی نہ کرنے پر پولیس کی تنقید کرتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں کہ اسی وقت ایک پولیس آکر انہیں بھی گرفتار کرلیا تھا۔

صدف جعفر کی رہائی کے لئے معروف شخصیات بشمول سوارا بھاسکر، میرا نائر اور مہیش بھٹ نے شوسل میڈیا پر ان کی گرفتار کے خلا ف اپنی آواز بلند کی تھی۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی صدف کی حمایت میں ٹوئٹ کرتے ہوئے یوپی حکومت کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔