اب بنارس کے محلے میں بی جے پی لیڈروں کا داخلہ ممنوع!

بنارس کی نئی سڑک پر لگا بی جے پی لیڈروں کا داخلہ ممنوع کرنے والا بینر

بی جے پی کے لیڈروں اور کارکنوں کے محلے میں ’داخلہ ممنوع‘ انتباہ والے پوسٹر لگائے گئے ہیں، جنہیں اطلاع ملتے ہی پولس نے ہٹا دیا۔

بنارس: اترپردیش میں وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ بنارس میں اناؤ اور کٹھوعہ اجتماعی عصمت دری کے واقعات پرحکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے خلاف لوگوں کا غصہ مسلسل بڑھ رہا ہے اوراپنی مخالفت ظاہر کرنے کے لئے وہ سڑکوں پر اتر رہے ہیں۔

بی جے پی کے لیڈروں اور کارکنوں کے محلے میں ’داخلہ ممنوع‘ انتباہ والے پوسٹر لگائے گئے، جنہیں اطلاع ملتے ہی پولس نے ہٹا دیا۔ پولس ذرائع نے بتایا کہ نئی سڑک محلے میں متنازعہ پوسٹر لگائے جانے کی اطلاع ملنے کے بعد انہیں فوری طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پوسٹر غیر قانونی طریقے سے چھپوائے اور چپكائے گئے تھے۔ جس کی وجہ سے کارروائی کی گئی۔

الٰہ آباد کی ایک گلی میں بھی بینر اور پوسٹر لگا کر بی جے پی لیڈروں و کارکنان کے داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی۔

الٰہ آباد کی ایک گلی میں بھی بینر اور پوسٹر لگا کر بی جے پی لیڈروں و کارکنان کے داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی۔

پولس ذرائع نے بتایا کہ پوسٹر سوشل میڈیا میں وائرل ہونے کے بعد پولس فوراً موقع پر پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ ساجھا سنسکرتی منچ کی جانب سے دستخطی مہم اور وزیر اعظم نریندر مودی کے گود لیے گئے گاؤں ناگےپور سمیت متعدد علاقوں میں لوگوں نے احتجاج کیا ہے۔

ساجھا سنسکرتی منچ کی جانب سے بنارس ہندو یونیورسٹی ( بی ایچ یو) کے مرکزی دروازے پر منعقدہ دستخطی مہم کے ذریعے جنسی استحصال کے معاملے جلد سے جلد نمٹانے کے لئے الگ سے فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے اور قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

سب سے زیادہ مقبول