’مصیبت میں ہیں کشمیری، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں نہیں ہوگی عید ملن تقریب‘

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں عید ملن تقریب منعقد نہ کرنے کا فیصلہ یونیورسٹی ٹیچر ایسو سی ایشن نے لیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کشمیر کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فائل تصویر 
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فائل تصویر
user

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر میں اس وقت کیا ماحول ہے، اس سے ہندوستانی عوام ناواقف ہیں۔ لیکن کچھ ایسی خبریں موصول ضرور ہو رہی ہیں جن میں بتایا جا رہا ہے کہ کشمیری عوام قید و بند میں ہی مبتلا نہیں ہیں بلکہ ظلم کے بھی شکار ہو رہے ہیں۔ حالانکہ مرکز کی مودی حکومت کا کہنا ہے کہ وہاں سب کچھ ٹھیک ہے اور دھیرے دھیرے ریاست میں عائد سبھی پابندیاں بھی ہٹا لی جائیں گی۔ لیکن سچ یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے جموں و کشمیر سے پریشان کرنے والی خبریں بھیجی ہیں۔ اس کے پیش نظر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اس سال عید ملن تقریب منعقد نہ کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں عید ملن تقریب منعقد نہ کرنے کا فیصلہ یونیورسٹی ٹیچر ایسو سی ایشن نے لیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کشمیر کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ٹیچر ایسو سی ایشن کا کہنا ہے کہ جب کشمیری عوام ایک ناقابل بیان استحصال کے دور سے گزر رہے ہیں تو یہاں جشن کیسے منایا جا سکتا ہے۔ بدھ کے روز اے ایم یو ٹیچر ایسو سی ایشن نے اس سلسلے میں ایک میٹنگ کا بھی انعقاد کیا تھا جس میں کئی امور پر گفتگو ہوئی۔

میٹنگ میں جموں و کشمیر کے حالات پر خصوصی طور پر غور و خوض ہوا جس کے بعد فیصلہ لیا گیا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے یونیورسٹی ٹیچر ایسو سی ایشن عید ملن تقریب کا انعقاد نہیں کرے گا۔ ایک انگریزی روزنامہ سے بات کرتے ہوئے اے ایم یو ٹیچر ایسو سی ایشن کے اعزازی سکریٹری نجم الاسلام نے بتایا کہ ’’یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار عید ملن تقریب کو منسوخ کیا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم عید ملن، ہولی ملن اور ہر سال اے ایم یو ملازمین کے لیے ایک سالانہ عشائیہ کا انعقاد کرتے ہیں۔ اس سال ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور عید ملن تقریب منعقد نہیں کرنی چاہیے۔‘‘

نجم الاسلام نے انگریزی روزنامہ کو جموں و کشمیر کے موجودہ صورت حال کے بارے میں بتایا کہ ’’حکومت کا دعویٰ ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر آ رہے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ وادی میں لوگ بہت تکلیف میں ہیں۔ جب لوگ سرکاری مشینری کے ہاتھوں ظلم کے شکار ہوتے ہیں تو ہم جشن نہیں منا سکتے۔ لوگوں کے پاس پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے کھانا، یہاں تک کہ دوا بھی نہیں ہے۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ سیکورٹی فورسز انھیں ان کے گھروں سے باہر جانے کی اجازت نہیں دے رہی۔ اسپتال کا نظام بھی وہاں بالکل ٹھپ پڑا ہوا ہے۔‘‘

انگریزی روزنامہ ’دی ٹیلی گراف‘ سے بات کرتے ہوئے بایو-کیمسٹری کے ایک پروفیسر نے کہا کہ ’’ہمیں دفعہ 370 کو ہٹائے جانے کے خلاف کوئی بھی رد عمل نہیں دینا۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ حکومت اپنے ہی شہریوں کو گرفتاری کر رہی ہے اور انھیں جیل میں ڈال رہی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’جموں و کشمیر کی سبھی جیل بھر چکی ہیں۔ اس لیے حکومت اب انھیں اتر پردیش کی جیلوں میں بھر رہی ہے۔‘‘

دراصل کچھ میڈیا رپورٹوں کے مطابق کشمیر سے تقریباً 200 لوگوں کو اتر پردیش کی جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ کشمیر کے لوگوں کو گرفتار کرنے کے فوراً بعد ہی انھیں اتر پردیش کی جیلوں کے لیے روانہ کر دیا گیا۔ اس طرح کی خبروں سے لوگوں کو یہ تشویش ہو رہی ہے کہ آخر جموں و کشمیر کے لوگ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومت بھلے ہی سب کچھ ٹھیک ہونے کا دعویٰ کر رہی ہو، لیکن جب تک میڈیا یا پھر کوئی عوامی لیڈر جموں و کشمیر نہیں پہنچتا، حقیقت سامنے آنی مشکل ہے۔ چونکہ جموں و کشمیر میں مواصلات اور انٹرنیٹ خدمات بند ہیں، اس لیے کسی کشمیری کا ہندوستان کی دیگر ریاستوں کے لوگوں سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔

Published: 29 Aug 2019, 12:10 PM