مہاجر مزدوروں کی موت کے اعداد موجود نہیں، معاوضہ کا سوال نہیں اٹھتا، حکومت کا پارلیمنٹ میں بیان

حکومت کے جواب پر حزب اختلاف کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے اور راہل گاندھی نے بھی اس معاملہ پر مودی حکومت پر نشانہ لگایا ہے۔

Getty Images
Getty Images
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: مرکزی وزارت محنت نے لوک سبھا میں بیان دیا ہے کہ حکومت کے پاس مہاجر مزدوروں کی موت سے متعلق اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، ایسی صورتحال میں معاوضہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ دراصل، حکومت سے پوچھا گیا تھا کہ کورونا و لاک ڈاؤن کے دوران اپنے آبائی علاقوں تک پہنچنے کی کوشش میں اپنی جان گنوا دینے والے مہاجر مزدوروں کے لواحقین کو کیا معاوضہ دیا جا رہا ہے؟

حکومت کے جواب پر حزب اختلاف کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے اور راہل گاندھی نے بھی اس معاملہ پر مودی حکومت پر نشانہ لگایا ہے۔ خیال رہے کہ وزارت محنت نے اعتراف کیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران ایک کروڑ سے زائد مہاجر مزدور ملک کے کونے کونے سے اپنی آبائی ریاست پہنچے ہیں۔

کورونا وبا کے دوران پیر کے روز پارلیمان کے مانسون اجلاس کے پہلے دن وزارت سے پوچھا گیا تھا کہ کیا حکومت کے پاس مہاجر مزدوروں کی آبائی ریاستوں میں واپسی کے بارے میں کوئی ڈیٹا موجود ہے۔ اپوزیشن نے اس سوال میں یہ بھی پوچھا تھا کہ کیا حکومت کو معلوم ہے کہ اس عرصے میں بہت سے مزدوروں کی جان چلی گئی تھی اور کیا حکومت کے پاس ان کے بارے میں کوئی تفصیلات ہیں؟ علاوہ ازیں یہ سوال بھی پوچھ گیا تھا کہ کیا ایسے خاندانوں کو مالی امداد یا معاوضہ دیا گیا ہے؟

ان سوالات کے جواب میں مرکزی وزیر محنت سنتوش کمار گنگوار نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ 'اس طرح کے اعداد و شمار کو درج نہیں کیا گیا ہے، ایسی صورت حال میں معاوضہ دینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اس پر کانگریس کے رہنما دگ وجے سنگھ نے کہا کہ ’’یہ حیرت کی بات ہے کہ وزارت محنت یہ کہہ رہی ہے کہ اس کے پاس مہاجر مزدوروں کی موت سے متعلق کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، لہٰذا معاوضے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے! کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یا تو ہم سب اندھے ہیں یا پھر حکومت کو لگتا ہے کہ وہ ہم سب کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ْ‘‘

واضح رہے کہ مارچ میں جب وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد لاکھوں مہاجر مزدور بے روزگار ہو گئے اور اپنے گھروں کو واپس لوٹنے لگے تھے۔ بہت سے لوگوں کو مکان مالکان نے گھروں سے نکال دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اپنے آبائی ریاستوں کی طرف کوچ کر دیا تھا۔ مزدوروں کو جو بھی گاڑی ملی اسی میں بیٹھ گئے اور متعدد مزدور پیدل ہی نکل پڑے۔ یہ مزدور کئی کئی دن بھوکے پیاسے چلتے رہے اور متعدد مزدروروں نے گھر پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ دیا۔

حزب اختلاف کے احتجاج اور تنقیدوں کے بعد مرکز نے ریاستوں سے سرحدیں سیل کرنے کو کہا اور اس کے بعد مزدوروں کے لئے اسپیشل ٹرینیں چلائی گئیں۔ تاہم، ان ٹرینوں میں اتنی بدانتظامی تھی کہ مزدوروں نے پیدل چلنا ہی مناسب سمجھا اور اموات کا سلسلہ جاری رہا۔

Published: 15 Sep 2020, 12:51 PM
next