اس ویلنٹائن ڈے پر ’تاج محل‘ کا نہیں ہو سکے گا دیدار

ویلنٹائن ڈے کے بارے میں آپ کو یہ ضرور جاننا چاہیے کہ جس طرح شاہجہاں اور ممتاز محل کی محبت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، اسی طرح سنت ویلنٹائن کو بھی محبت کے تئیں ان کی سوچ کے لیے یاد رکھا جائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

تاج محل شاہجہاں اور ممتاز محل کے درمیان لافانی محبت کی یادگار ہے اور اپنی خوبصورتی کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ کئی ایسے عاشق و معشوق ہیں جنھوں نے اپنی محبت کا اظہار تاج محل کے سامنے کیا، اور ویلنٹائن ڈے کے موقع پر تو محبت کرنے والے خصوصی طور پر ’محبت کی نشانی‘ کا دیدار کرنے جاتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ ویلنٹائن ڈے کے موقع پر تاج محل کا دیدار ممکن نہیں۔ ایسا اس لیے کیونکہ آج یعنی 14 فروری 2020 کا دن جمعہ ہے جس دن تاج محل میں داخلہ بند رہتا ہے۔

دراصل ہفتہ میں جمعہ کا دن ہی ایسا ہے جب تاج محل میں لوگوں کی انٹری نہیں ہوتی اور اگر کسی کو تاج محل کا دیدار کرنا بھی ہوتا ہے تو وہ جمنا پار واقع مہتاب باغ سے اس کا خوبصورت نظارہ دیکھ سکتا ہے۔ اس بار چونکہ ویلنٹائن ڈے جمعہ کو پڑ رہا ہے، تو ایسے کئی لوگ ہوں گے جو تاج محل جانے کا ارادہ رکھتے ہوں گے اور آگرہ جانے کا منصوبہ بھی بنا لیا ہوگا، لیکن انھیں یہ جان کر مایوسی ہوگی کہ جمعہ ہونے کی وجہ سے اس سال 14 فروری کو تاج محل میں وہ داخل نہیں ہو پائیں گے۔

بہر حال، ویلنٹائن ڈے کے بارے میں آپ کو یہ ضرور جاننا چاہیے کہ جس طرح سے شاہجہاں اور ممتاز محل کی محبت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، اسی طرح سنت ویلنٹائن کو بھی محبت کے تئیں ان کی سوچ کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دراصل ’اوریا آف جیکبس ڈی وراجن‘ نامی کتاب میں جو کچھ سنت ویلنٹائن کے بارے میں لکھا گیا ہے اس کے مطابق وہ روم کے ایک پادری تھے۔ وہ دنیا میں محبت کو فروغ دینے میں ہمیشہ آگے رہتے تھے۔ ان کے لیے محبت ہی زندگی کا دوسرا نام تھا۔ لیکن اسی شہر کے راجہ کلاؤڈیس کو ان کی یہ بات پسند نہیں تھی۔ راجہ کو ایسا لگتا تھا کہ محبت اور شادی سے مردوں کی طاقت اور عقل دونوں ختم ہو جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی ریاست میں فوجی اور افسران شادی نہیں کر سکتے تھے۔

مذکورہ کتاب کے مطابق سنت ویلنٹائن راجہ کلاؤڈیس کے اس حکم کے خلاف تھے اور روم کے لوگوں کو محبت اور شادی کے لیے ترغیب دیتے تھے۔ اتنا ہی نہیں، انھوں نے کئی افسروں اور فوجیوں کی شادیاں بھی کرائیں۔ اس بات سے راجہ بہت خفا ہوا اور اس نے سنت ویلنٹائن کو 14 فروری 269 میں پھانسی پر چڑھوا دیا۔ اس وقت سے ہر سال دنیا بھر میں اس دن کو ’پیار کے دن‘ کی شکل میں منایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سنت ویلنٹائن نے اپنی موت کے وقت جیلر کی اندھی بیٹی جیکوبس کو اپنی آنکھیں عطا کر دی تھیں۔ سنت نے جیکوبس کو ایک خط بھی لکھا جس کے آخر میں انھوں نے لکھا تھا ’تمھارا ویلنٹائن‘۔