جب نتیش بہار کو خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ کرتے کرتے تھک گئے، تو تیجسوی نے دیا نیا فارمولہ

تیجسوی یادو نے کہا کہ ’’میں نے پہلے ہی کہا تھا نتیش جی تھک چکے ہیں، اب تو ان کی پارٹی خود مان رہی ہے کہ ان کے ساتھ ساتھ پارٹی بھی تھک چکی ہے، انھیں بہار کی نہیں صرف اور صرف کرسی کی فکر ہے۔‘‘

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ سیاسی پارٹیوں کا بہت پرانا مطالبہ ہے۔ اس درمیان برسراقتدار جنتا دل یو نے اس پرانے مطالبہ کو چھوڑ دینے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد ریاست میں ایک بار پھر اس ایشو کو لے کر سیاسی سرگرمی بڑھ گئی ہے۔ برسراقتدار این ڈی اے میں شامل ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) نے اس ایجنڈے پر قائم رہنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ جدوجہد جاری رہے گی۔ لیکن بی جے پی کا ماننا ہے کہ اب مطالبہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

اس درمیان ریاست کی اہم اپوزیشن پارٹی آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے خصوصی ریاست کے درجہ کے لیے نیا فارمولہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مہاگٹھ بندھن بہار کی لوک سبھا کی 40 میں سے 39 سیٹیں جیتتی ہے تو جو بھی وزیر اعظم ہوں گے، خود پٹنہ آکر بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا اعلان کریں گے۔ تیجسوی یادو نے وزیر اعلیٰ نتیش پر طنز کستے ہوئے سوالیہ لہجے میں کہا کہ پٹنہ یونیورسٹی کو سنٹرل یونیورسٹی کا درجہ نہیں دلا پائے وہ، وزیر اعلیٰ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ کیا دلا پائیں گے؟ کیا یہی 40 میں سے 39 اراکین پارلیمنٹ والا ڈبل انجن ہے؟


اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کہتے ہیں کہ 2024 میں اگر ہمارا اتحاد بہار کی لوک سبھا کی 40 میں سے 39 سیٹیں جیتتا ہے تو جو بھی وزیر اعظم ہوں گے، خود پٹنہ آ کر بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا اعلان کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم پالیسی، اصول، نظریات اور وعدے پر قائم رہتے ہیں۔ ہماری ریڑھ کی ہڈی سیدھی ہے۔ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ تیجسوی یادو مزید کہتے ہیں کہ ’’میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ نتیش جی تھک چکے ہیں۔ اب تو ان کی پارٹی خود مان رہی ہے کہ وزیر اعلیٰ کے ساتھ ساتھ پارٹی بھی تھک چکی ہے۔ انھیں بہار کی نہیں صرف اور صرف کرسی کی فکر ہے۔ اگر کرسی کی فکر نہیں ہوتی تو اتنے تضادات اور بے عزتی کے بعد بھی کرسی سے نہیں چپکے رہتے۔‘‘

دوسری طرف این ڈی اے میں شامل ’ہم‘ نے بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کے مطالبہ کو لے کر جدوجہد جاری رکھنے کی بات کہی ہے۔ ہم کے ترجمان دانش رضوان نے منگل کے روز کہا کہ خصوصی ریاست کے درجہ کے معاملے پر جنھیں پیچھے ہٹنا ہے ہٹ جائیں، لیکن ہم اس کو لے کر جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ بہار کی ترقی کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔ حالانکہ انھوں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پر ایک وفد بنائیں اور پھر سے وزیر اعظم و صدر جمہوریہ کووند سے ملاقات کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایوان سے پاس ایشو ہے، ہم کیسے شکست مان لیں۔


حالانکہ ریاست کے وزیر برائے روڈ کنسٹرکشن اور بی جے پی لیڈر نتن نوین کا کہنا ہے کہ بہار کو مرکز سے یا نریندر مودی حکومت سے مطالبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بہار کی ترقی کے لیے خصوصی پیکیج کے تحت کام ہو رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ریاستوں کو اب خودکفیل بنانے کا کام ہو رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔